وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ کے برطرفی کے خوف میں مبتلا ہونے کا انکشاف

Wait 5 sec.

واشنگٹن (4 اپریل 2026): وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ کے برطرفی کے خوف میں مبتلا ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔نیویارک پوسٹ کے مطابق ٹرمپ انتطامیہ کے اہلکاروں نے بتایا کہ وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ کو اپنی برطرفی کا خوف ہے، ان کو لگتا ہے کہ آرمی سیکریٹری ان کی جگہ لے سکتے ہیں۔اخبار نے لکھا کہ موجودہ اور سابق سرکاری حکام نے بتایا کہ پیٹ ہیگستھ ’’شک پر مبنی ذہنیت‘‘ میں مبتلا ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ آرمی سیکریٹری ڈین ڈرسکول ان کی جگہ لے سکتے ہیں، یہ شک آرمی کے اعلیٰ ترین جنرل کو برطرف کیے جانے کی وجہ بنی۔ایک عہدے دار نے کہا ’’یہ سب اس عدم تحفظ اور شکوک و شبہات کا نتیجہ ہے جو پیٹ نے ’سگنل گیٹ‘ کے بعد پیدا کر لیے ہیں (مارچ 2025 میں ہیگستھ کا گروپ چیٹ اسکینڈل جس میں غلطی سے ایک صحافی بھی شامل ہو گیا تھا)۔ بدقسمتی سے ان کے قریبی معاونین اس آگ کو ٹھنڈا کرنے کی بجائے مزید بھڑکا رہے ہیں۔‘‘امریکا نے ایف 15، اے 10 جنگی طیارے تباہ ہونے کی تصدیق کر دی، ایک پائلٹ لاپتا، سرچ ہیلی کاپٹرز پر بھی حملہپیٹ ہیگستھ اپنے برطرف کیے جانے کے بارے میں بہت فکر مند ہیں، امریکی حکام کا کہنا ہے کہ پیٹ ہیگستھ عدم تحفظ کا شکار ہیں اور یہ سب سگنل گیٹ اسکینڈل کے بعد شروع ہوا۔ پیٹ ہیگستھ کا آرمی سیکریٹری کے ساتھ تنازعہ ہوا، لیکن وائٹ ہاؤس حکام نے انھیں بتایا کہ آپ ابھی آرمی سیکریٹری کو برطرف نہیں کر سکتے، وہ نائب صدر جے ڈی وینس کے قریبی دوست ہیں۔اسرائیل ایران جنگ سے متعلق تمام خبریں یہاں پڑھیںہیگستھ نے جمعرات کے روز ایران جنگ کے دوران آرمی چیف آف اسٹاف جنرل رینڈی جارج، جو ڈرسکول کے قریبی معاون ہیں، سے استعفیٰ طلب کیا، تاہم اس کی وجوہ عوامی طور پر بیان نہیں کی گئیں۔مزید دو آرمی جنرلز جنرل ڈیوڈ ہوڈنے، جو آرمی کے ٹرانسفارمیشن اینڈ ٹریننگ کمانڈ سے وابستہ تھے، اور میجر جنرل ولیم گرین، جو آرمی کے چیپلین کور سے تعلق رکھتے تھے، کو بھی اس برطرفی مہم میں ہٹا دیا گیا، جب کہ محکمہ کی جانب سے صرف اتنا کہا گیا کہ ’’قیادت میں تبدیلی کا وقت آ گیا تھا۔‘‘ٹرمپ انتظامیہ کے قریب ایک ذریعے نے کہا ’’ہیگستھ کا ڈرسکول کے ساتھ شدید تنازع ہے، اور وائٹ ہاؤس نے انھیں بتایا ہے کہ وہ فی الحال ڈرسکول کو برطرف نہیں کر سکتے۔ ہیگستھ کو اپنی برطرفی کا شدید خدشہ ہے، اور وہ جانتے ہیں کہ ڈرسکول ان کی جگہ لینے کے لیے ایک مضبوط امیدوار ہیں۔ اسی لیے پیٹ ہر اس شخص کو نشانہ بنا رہے ہیں جسے وہ ڈرسکول کے قریب سمجھتے ہیں۔‘‘ڈرسکول نائب صدر جے ڈی وینس کے قریبی دوست ہیں؛ دونوں نے عراق جنگ میں خدمات انجام دینے کے بعد ییل لا اسکول میں تعلیم حاصل کی تھی۔ گزشتہ موسمِ گرما میں ڈرسکول کا نام ہیگستھ کے ممکنہ جانشین کے طور پر سامنے آیا تھا، اور گزشتہ خزاں میں یوکرین جنگ کے مذاکرات میں ان کے کردار کے بعد ہیگستھ کے شکوک مزید بڑھ گئے۔واضح رہے کہ امریکی فوجی عہدے داروں نے اعلیٰ جنرلوں کی برطرفی کا فیصلہ وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ کا پاگل پن قرار دے دیا ہے۔ نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کے مطابق امریکی جنرلوں کی برطرفی اور جنگ کے طریقہ کار پر امریکی عہدے داروں کو تشویش لاحق ہے۔امریکی حکام کے مطابق آرمی چیف آف جوائنٹ اسٹاف کی برطرفی کی وجہ شخصی اختلافات تھے۔ یہ اقدام فوجی قیادت کے لیے اچانک اور حیران کن ثابت ہوا۔ گزشتہ روز آرمی چیف سمیت 13 جرنیلوں کو برطرف کیا گیا تھا۔