ممبئی : فیڈریشن آف مہاراشٹرا مسلمس (ایف ایم ایم) کی جانب سے 3 اپریل کو امن کمیٹی کرافورڈ مارکیٹ میں سماجی و مذہبی رہنماؤں کی قیادت میں ایک اہم نشست منعقد ہوئی، جس میں ووٹر لسٹ کی خصوصی نظر ثانی (ایس آئی آر) کے تعلق سے عوامی بیداری کو مؤثر اور منظم بنانے پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ ’فیڈریشن آف مہاراشٹرا مسلمس‘ ریاست مہاراشٹر کی مختلف ملی اور سماجی تنظیموں کا اتحاد ہے۔اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ عوام تک درست اور بروقت معلومات کی ترسیل نہایت ضروری ہے تاکہ کسی بھی قسم کی غلط فہمی یا بے چینی سے بچا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے طے پایا کہ ممبئی کے مختلف علاقوں، بالخصوص کرلا، باندرہ، ملت نگر، ساؤتھ ممبئی، دھاراوی، واڈالا اور مالاڈ میں مساجد، محلوں اور دیگر عوامی مقامات کے ذریعے بیداری مہم کو مزید وسعت دی جائے گی۔ اس ضمن میں باقاعدہ میپنگ اور مقامی سطح پر ٹیمیں تشکیل دینے پر بھی اتفاق کیا گیا تاکہ ہر علاقے میں منظم اور مربوط انداز میں کام کیا جا سکے۔میٹنگ میں متعلقہ حکام، خصوصاً ’آر اے‘ سے رابطہ قائم کرنے، سیاسی جماعتوں سے ملاقات اور اپائنٹمنٹ حاصل کرنے کے ذریعے اس مسئلے کو مؤثر انداز میں پیش کرنے کی حکمت عملی پر بھی غور کیا گیا۔ مزید یہ فیصلہ کیا گیا کہ جو بوتھ لیول آفیسر (بی ایل او) عوامی مسائل پر مناسب توجہ نہیں دے رہے، ان کے خلاف الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر (ای آر او) کے پاس باضابطہ شکایت درج کی جائے گی، اور اگر وہاں سے بھی اطمینان بخش پیش رفت نہ ہو تو اعلیٰ ذمہ داران سے رجوع کیا جائے گا۔اس نشست میں سرفراز آرزو صاحب، مولانا محمود خان دریابادی صاحب، مولانا انیس اشرفی صاحب، عبدالحسیب بھاٹکر صاحب، فرید شیخ صاحب، ایوب نوری صاحب، راشد خان صاحب اور نعیم شیخ صاحب سمیت دیگر معزز سماجی و مذہبی شخصیات شریک رہیں، جنہوں نے اپنے خیالات اور تجاویز کے ذریعے اس مہم کو مزید مؤثر بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔اجلاس کے اختتام پر عوام کے لیے یہ واضح پیغام دیا گیا کہ وہ کسی بھی قسم کی گھبراہٹ یا افواہوں کا شکار نہ ہوں، بلکہ پُرسکون رہتے ہوئے اپنے تمام ضروری کاغذات پہلے سے تیار رکھیں اور باشعور انداز میں ’ایس آئی آر‘ کے عمل میں حصہ لیں۔ اس موقع پر اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ باہمی تعاون، مؤثر منصوبہ بندی اور مسلسل جدوجہد کے ذریعے اس بیداری مہم کو ہر سطح پر کامیاب بنایا جائے گا۔