(27 فروری 2026): بھارتی شہر مالیگاؤں کے ایک سرکاری دفتر میں نماز ادا کرنے پر پولیس نے 7 افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔انڈین میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ناسک رورل کے قلعہ پولیس اسٹیشن میں مقدمہ اُس وقت درج کیا گیا جب 23 فروری کو ریکارڈ کی گئی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔پولیس حکام کے مطابق دفعات 132، 189 (2)، 190 اور 292 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا، ایف آئی آر میں الزام لگایا گیا کہ ان افراد نے سرکاری کام میں مداخلت کی، غیر قانونی طور پر جمع ہوئے اور امتناعی احکامات کی خلاف ورزی کی۔یہ بھی پڑھیں: بھارت میں انتہا پسند ہندوؤں کا مسلمانوں پر بہیمانہ تشدد، ویڈیو نے دل دہلا دیےویڈیو وائرل ہونے کے بعد حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رہنماؤں نے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ ایک ہندو انہتا پسند تنظیم کی جانب سے شکایت درج کروائی گئی جبکہ بی جے پی کے سینئر لیڈر کیریٹ سومیا نے یہ معاملہ وزیر اعلیٰ کے سامنے اٹھایا۔نماز ادا کرنے والے افراد نے کسی کی مذہبی دل آزاری یا سرکاری کام میں خلل ڈالنے کی نیت سے انکار کیا۔ انہوں نے مقامی میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ پیر کے روز ہمارے علاقے میں بجلی نہیں تھی، ہم شکایت درج کروانے محکمہ بجلی کے دفتر گئے تھے، جب ہم وہاں پہنچے تو افسر اپنے کیبن میں موجود نہیں تھے، انتظار کے دوران عصر کی نماز کا وقت ہوگیا تو ہم نے دفتر کے اندر ایک خالی جگہ دیکھی اور وہاں نماز ادا کر لی۔انہوں نے مزید بتایا کہ نماز مختصر تھی اور کوئی ہنگامہ نہیں کیا گیا، اگر ہم نماز کیلیے باہر جاتے تو شاید افسر سے ملاقات نہ ہو پاتی اور بجلی کی شکایت ادھوری رہ جاتی۔مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن کے چیف رویندر جادھو نے تصدیق کی کہ یہ واقعہ ان کی غیر موجودگی میں پیش آیا۔ انہوں نے بتایا کہ کچھ لوگ میرے کیبن میں آئے اور شور شرابہ کیا، میں نے ماتحت عملے کو ہدایت دی کہ ہنگامہ کرنے والوں کے خلاف شکایت درج کرائیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ شروع میں صرف ایک درخواست دی گئی تھی لیکن معاملہ طول پکڑنے کے بعد باقاعدہ قانونی کارروائی کی گئی۔پولیس نے تصدیق کی کہ ایف آئی آر میں لقمان کمال (سلیم) اور تقریباً چھ دیگر افراد کو نامزد کیا گیا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ شکایت کی بنیاد پر مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور تفتیش جاری ہے۔رمضان کے مہینے میں پیش آنے والے اس واقعے نے مالیگاؤں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی جو کہ ایک مسلم اکثریتی شہر ہے۔