انقرہ : ترکی کا 6 منزلہ زیرِ زمین شہر جو حیرت انگیز طور پر بیک وقت کئی ماہ تک 20 ہزار سے زائد سے زائد لوگوں کو پناہ گاہ دے سکتا ہے۔ترکی اپنے آثارِ قدیمہ کے لحاظ سے مشہور ملک ہے لیکن یہاں کا ضلع دیرنکویو اس لحاظ سے بھی اور بھی زیادہ منفرد ہے کہ یہاں ایک وسیع زیرِ زمین شہر کے آثارِ قدیمہ موجود ہیں جو تقریباً ڈھائی ہزار سال پرانے ہیں۔یہ زیرِ زمین شہر آج ڈیرِنکویو کے نام سے جانا جاتا ہے، جس کا قدیم نام ایلینگوبو تھا، زمینی سطح کے نیچے بنایا گیا معجزہ نما شہر کئی صدیوں سے پوشیدہ تھا۔ یہ شہر 6 منزلہ ہے جو زمین سے 200 فٹ گہرائی میں پھیلا ہوا ہے، جس میں درجنوں سرنگیں شامل ہیں، یہاں کسی زمانے میں 20 ہزار لوگ بیک وقت رہا کرتے تھے۔برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق دنیا کا سب سے بڑا کھدائی سے دریافت ہونے والا زیرِ زمین شہر ڈیرِنکویو ہزاروں سال سے تقریباً مستقل طور پر یہاں کے باشندوں کے استعمال میں تھا۔اس شہر میں سرنگوں، کمروں، اناج گوداموں، اصطبلوں، عبادت گاہوں اور یہاں تک کہ اسکولوں پر مشتمل ایک مکمل تہذیب تھی۔ ماہرین کے مطابق یہ شہر ہزاروں برس تک مختلف ادوار میں استعمال ہوتا رہا اور اس پر فریجیئن، فارسی اور بازنطینی عیسائیوں کا قبضہ رہا۔یہاں سیڑھیوں اور چبوتروں کا ایک جال پھیلا ہوا ہے جو منزل بہ منزل نیچے اترتا چلا جاتا ہے، یہاں چھوٹی بڑی راہداریاں بھی ہیں جو اس شہر کے مختلف حصوں کو آپس میں ملاتی ہیں۔سال 1920کی دہائی میں یونان ترک جنگ کے دوران کیپاڈوشیا کے باشندے علاقہ چھوڑ کر یونان منتقل ہوگئے تھے، جس کے بعد یہ شہر مکمل طور پر ویران ہوگیا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اس زیرِ زمین شہر کو 1963 میں ایک مقامی شخص نے دریافت کیا، جب اس کی مرغیاں گھر کی مرمت کے دوران بننے والی دراڑ سے غائب ہونے لگیں، کھدائی پر ایک تاریک سرنگ سامنے آئی، جو اس وسیع شہر کا داخلی راستہ نکلی۔ بعد ازاں معلوم ہوا کہ نجی گھروں کے اندر ایسے 600 سے زائد داخلی راستے موجود تھے۔اس شہر کا سب سے حیران کن پہلو اس کا جدید وینٹی لیشن سسٹم تھا۔ پچاس سے زائد ہوا کے کنویں پورے شہر میں تازہ ہوا فراہم کرتے تھے، جبکہ 55 میٹر گہرا کنواں پانی کی ضروریات پوری کرتا تھا۔بارہویں صدی عیسوی میں مقامی عیسائیوں نے منگول حملہ آوروں اور دوسری جنگوں سے بچنے کےلیے اسی شہر میں پناہ لی۔ بعد ازاں پہلی جنگِ عظیم کے بعد عیسائیوں کو یہاں سے نکال دیا گیا اور یہ شہر بے آباد ہوگیا۔رپورٹ کے مطابق 1963 میں ترک محکمہ آثارِ قدیمہ نے اس جگہ کو اپنی تحویل میں لے لیا اور پھر یہاں سرنگیں اور زیرِ زمین تعمیرات دریافت ہوتی گئیں۔ یہی وجہ ہے کہ 1985 میں یونیسکو نے کیپاڈوشیا کو عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا۔آج سے 50 سال قبل یہ شہر سیاحوں کے لیے کھول دیا گیا اور اس کا شمار آج ترکی کے اہم اور تاریخی آثارِ قدیمہ میں ہوتا ہے۔ترکیہ پر نئی مصیبت، زرخیز زمینوں میں بڑے بڑے گڑھے بننے لگے