ہریدوار: اتراکھنڈ کے ہریدوار ضلع کے کنکھل علاقے میں جوالاپور کے ایک مسلم کباڑ خریدنے والے شخص کے ساتھ مذہبی بنیاد پر بدسلوکی اور دھمکی دینے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد علاقے میں بحث و تشویش کا ماحول پیدا ہوگیا ہے۔ پولیس نے متاثرہ کی تحریری شکایت پر معاملے کی تفتیش شروع کر دی ہے۔اطلاعات کے مطابق جوالاپور کے قصاباں علاقے کے رہنے والے شان محمد کباڑ کی خرید و فروخت کے ذریعے اپنے اہل خانہ کی کفالت کرتے ہیں۔ الزام ہے کہ وہ کنکھل میں سامان فروخت کر رہے تھے کہ اسی دوران ایک نوجوان نے انہیں روک لیا اور ان سے نام اور پتہ دریافت کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ جیسے ہی شان محمد نے اپنا نام بتایا، نوجوان نے ایک ہندو تنظیم سے وابستگی کا دعویٰ کرتے ہوئے ان کے ساتھ سخت لہجے میں بات کی اور انہیں فوری طور پر علاقہ چھوڑنے کی دھمکی دی۔سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو میں ایک نوجوان شخص سے تلخ کلامی کرتے اور اسے دھمکیاں دیتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔ ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد جوالاپور کی مسلم برادری میں ناراضی پھیل گئی۔ کچھ مقامی نوجوان متاثرہ کو ساتھ لے کر کنکھل تھانے پہنچے اور ملزم کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے باضابطہ شکایت درج کرائی۔کنکھل تھانے کے انچارج انسپکٹر دیویندر راوت نے بتایا کہ پولیس کو شکایت موصول ہو چکی ہے اور وائرل ویڈیو کی صداقت کی جانچ کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی سطح پر ویڈیو اور واقعے کے حالات کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور متعلقہ افراد سے پوچھ گچھ کی جائے گی۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ حقائق کی تصدیق کے بعد قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔پولیس انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی شخص کو مذہب کی بنیاد پر ہراساں کرنے یا امن و امان میں خلل ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ فی الحال تفتیش جاری ہے اور حکام کا کہنا ہے کہ مکمل جانچ کے بعد ہی معاملے کی اصل صورت حال سامنے آئے گی۔