سپریم کورٹ کی سخت ناراضگی کے بعد ’عدلیہ میں بدعنوانی‘ والے باب کو لے کر نیشنل کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ (این سی ای آر ٹی) بیک فٹ پر آگیا ہے۔ این سی آر ٹی نے کلاس 8 کی نصابی کتب میں ’بدعنوان عدلیہ‘ سے متعلق عدالت عظمیٰ سے ’نامناسب مواد‘ کے لیے معافی مانگتے ہوئے کہا ہے کہ بازار میں فروخت شدہ کتابیں واپس لی جائیں گی۔ این سی ای آرٹی نے کہا ہے کہ متعلقہ کتابوں کو مجاز افسران کے مشورے سے پھر سے لکھا جائے گا۔ اس سے پہلے بدھ کے روز ہندوستان کے چیف جسٹس سوریہ کانت کی صدارت والی بینچ نے اسے بے حد پریشان کرنے والا قدم بتایا تھا۔این سی ای آر ٹی: آٹھویں درجہ کی کتاب پر تنازعہ، ایکسپرٹ کمیٹی کرے گی ’راجستھان میں مراٹھا سلطنت‘ کی جانچبدھ کو دیر رات جاری اپنے بیان میں این سی ای آرٹی نے 8 ویں جماعت کی سوشل سائنس کی نصابی کتاب سے’عدالتی بدعنوانی‘ سے متعلق ’نامناسب مواد‘ کو ہٹانے کا اعلان کیا۔ این سی ای آرٹی نے کتاب تنازعہ کواپنی غلطی تسلیم کی اوراس کے لیے معافی مانگی ہے۔ سی جے آئی سوریہ کانت نے بدھ کو ہی سپریم کورٹ میں اس قدم کی سرزنش کی تھی۔ اس کے بعد این سی ای آرٹی نے ایک بیان جاری کرکے تنازعہ پر ندامت کا اظہار کیا۔اپنے بیان میں این سی ای آر ٹی نے کہا کہ اس سے غیرارادی طور پرغلطی ہوئی ہے اور اس کے لیے معذرت خواہ ہیں۔ اس کے ساتھ ہی این سی ای آرٹی نے کہا کہ مستقبل میں ایسی غلطی نہیں ہوگی اور نئی نظرثانی شدہ کتاب بچوں کو فراہم کی جائے گی۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں آج این سی ای آر ٹی کی اسی متنازع کتاب معاملے میں سماعت ہونا ہے۔این سی ای آر ٹی کی کتاب سے بابری مسجد کا ذکر نکال دیا گیا، ایودھیا کے موضوع پر کی گئیں اہم تبدیلیاںواضح رہے کہ 24 فروری 2026 کواین سی ای آرٹی نے کلاس 8 کے لیے "Exploring Society: India and Beyond, Vol II" عنوان سے سوشل سائنس پارٹ 2 کی نصابی کتاب جاری کی تھی۔ کتاب شائع ہونے کے بعد پتہ چلا کہ باب 4 ’ہمارے سماج میں عدلیہ کا کردار‘ (صفحات 125-142) پرہے۔ جس میں ’عدلیہ میں بدعنوانی‘ کی بات کہی ہے گئی ہے، پر ہنگامہ ہوگیا۔ معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچ گیا۔ چیف جسٹس سوریہ کانت نے بدھ کے روز معاملے کی سنگینی کو تسلیم کرتے ہوئے ازخود نوٹس لیا تھا۔چیف جسٹس آف انڈیا نے اپنے سخت تبصرے میں کہا تھا کہ ہم کسی کوعدالیہ کو بدنام کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ معاملے میں قانون اپنا کام کرے گا اور ضرورت پڑی توعدالت ازخود کارروائی کرے گی۔ سپریم کورٹ کے تبصرے سے حکومت سے لے کر سماج اورتعلیمی حلقوں میں کھلبلی مچ گئی تھی۔بعد ازاں این سی ای آر ٹی نے ایک بیان جاری کرکے کہا کہ متنازع کتاب میں نادانستہ طور پر کچھ نامناسب متن اور فیصلے سے متعلق غلطیاں شامل ہوگئی ہیں۔ اس پر وزارت تعلیم کے اسکولی تعلیم اور محکمہ خواندگی نے بھی اعتراض کیا اور اگلے احکامات تک کتاب کی تقسیم کو روکنے کا حکم دیا۔ این سی ای آر ٹی نے اس ہدایت پرعمل کرتے ہوئے کتاب کی فروخت روک دی ہے۔ این سی ای آر ٹی نے کہا کہ وہ عدلیہ کا بہت احترام کرتا ہے اوراسے ہندوستانی آئین اور بنیادی حقوق کا محافظ مانتا ہے۔ ادارے نے کہا کہ یہ غلطی مکمل طور پر غیر ارادی تھی اوراس پرافسوس کا اظہار کیا گیا۔