کانگریس کے سینئر رہنما جے رام رمیش نے ایکس پر اپنی حالیہ پوسٹ میں وزیر اعظم نریندر مودی کے کنیسٹ میں دیے گئے خطاب کا حوالہ دیتے ہوئے تاریخی دستاویزات کو موضوع بحث بنایا ہے۔ انہوں نے اپنی پوسٹ کے ساتھ البرٹ آئنسٹائن اور جواہر لال نہرو کے درمیان ہونے والی خط و کتابت کے عکس اور پانچ نومبر 1949 کو پرنسٹن میں ہونے والی دونوں رہنماؤں کی ملاقات کی تصویر بھی شیئر کی۔وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ جس دن ان کی پیدائش ہوئی، اسی دن ہندوستان نے اسرائیل کو ایک نئے اور خود مختار ملک کے طور پر تسلیم کیا تھا۔ انہوں نے اس بات کو دونوں ملکوں کے تعلقات کی تاریخی ہم آہنگی کی علامت قرار دیا۔ وزیر اعظم نے زور دیا کہ ہندوستان اور اسرائیل کے روابط مشترکہ جمہوری اقدار، سکیورٹی تعاون، زرعی ترقی، اختراع اور ٹیکنالوجی پر مبنی ہیں۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ عزم اور باہمی شراکت داری کو مستقبل کی بنیاد قرار دیا۔جے رام رمیش نے اس بیان کے تناظر میں تاریخی پس منظر پیش کرتے ہوئے بتایا کہ 13 جون 1947 کو البرٹ آئنسٹائن نے جواہر لال نہرو کو خط لکھا تھا جس میں اسرائیل کے قیام، یہودی عوام کی حالت اور عالمی ضمیر کی ذمہ داری کا ذکر کیا گیا تھا۔ آئنسٹائن نے یہودیوں پر ڈھائے گئے مظالم کے پس منظر میں ایک محفوظ وطن کی ضرورت پر زور دیا تھا۔اس کے جواب میں 11 جولائی 1947 کو نئی دہلی سے نہرو نے تفصیلی خط ارسال کیا۔ نہرو نے لکھا کہ ہندوستان میں یہودی عوام کے لیے گہری ہمدردی پائی جاتی ہے اور نازی نسل پرستی کو مکمل طور پر مسترد کیا جاتا ہے۔ انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ ہندوستان نے جنوبی افریقہ میں نسلی امتیاز کے خلاف آواز اٹھائی اور انسانی حقوق کو عالمی سطح پر اجاگر کیا۔ انہوں نے یہ بھی لکھا کہ ہندوستان نے لاکھوں یہودیوں کی ہلاکت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا تھا۔تاہم نہرو نے فلسطین کے مسئلے کو نہایت پیچیدہ اور حساس قرار دیا۔ ان کے مطابق جہاں حقوق کا تصادم ہو وہاں فیصلہ آسان نہیں ہوتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہودیوں کے ساتھ ہمدردی اپنی جگہ لیکن عرب عوام کے حقوق کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ نہرو نے کہا کہ پائیدار حل وہی ہوگا جو دونوں فریقوں کے لیے قابل قبول ہو اور طاقت یا تشدد کے بجائے باہمی مفاہمت سے طے پائے۔پوسٹ میں اس ملاقات کا بھی ذکر کیا گیا ہے جو پانچ نومبر 1949 کو پرنسٹن میں آئنسٹائن کی رہائش گاہ پر ہوئی تھی۔ دونوں شخصیات نے عالمی سیاست، امن اور انسانی اقدار پر تبادلہ خیال کیا۔ بعد ازاں نومبر 1952 میں آئنسٹائن کو اسرائیل کے صدر کا منصب پیش کیا گیا جسے انہوں نے یہ کہہ کر قبول کرنے سے انکار کر دیا کہ وہ سیاسی ذمہ داریوں کے لیے خود کو موزوں نہیں سمجھتے۔جے رام رمیش نے مزید یاد دلایا کہ اپریل 1955 میں آئنسٹائن کے انتقال سے کچھ عرصہ قبل ان اور نہرو کے درمیان جوہری دھماکوں اور ہتھیاروں کے خطرات پر بھی خطوط کا تبادلہ ہوا تھا۔ ان خطوط میں عالمی امن، ایٹمی تجربات کی تباہ کاری اور انسانیت کے مستقبل پر گہری تشویش ظاہر کی گئی تھی۔اس طرح جے رام رمیش نے تاریخی خطوط اور تصاویر کے ذریعے یہ مؤقف پیش کیا کہ اسرائیل اور فلسطین کے سوال پر ہندوستانی قیادت نے ہمدردی، توازن اور عالمی امن کے اصولوں کو سامنے رکھا تھا، اور یہ بحث آج بھی سفارتی اور اخلاقی زاویوں سے اہمیت رکھتی ہے۔