ایران پر فوجی حملہ کیا جائے یا نہیں، امریکی سینیٹرز کی رائے تقسیم ہو گئی

Wait 5 sec.

واشنگٹن (25 فروری 2026): امریکی سینیٹرز کی رائے ایران پر فوجی حملے کے سلسلے میں تقسیم ہو گئی ہے، سینیٹر الزبتھ وارن نے ایکس پر لکھا کہ مشرقِ وسطیٰ میں کسی نئی اور طویل فوجی مداخلت سے گریز کیا جائے۔سینیٹر الزبتھ وارن نے ٹویٹ میں کہا امریکی عوام چاہتے ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ ملک کی اندرونی معاشی صورت حال بہتر بنانے پر توجہ دیں، محنت کش اور متوسط طبقے کے لیے زندگی مزید بہتر بنائی جائے، رہائشی اخراجات، صحت، تعلیم جیسے مسائل شہریوں کے لیے باعث تشویش بنے ہوئے ہیں۔صدر ٹرمپ کے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب کو الزبتھ وارن نے امریکی خاندانوں کے لیے ایک بُری رات قرار دیا، اور کہا کہ ٹرمپ کے پاس اُس وعدے کے بارے میں کہنے کو کچھ نہ تھا جس میں انھوں نے کریڈٹ کارڈ کے سود کی شرح محدود کرنے کا اعلان کیا تھا، چائلڈ ہیلتھ کیئر کو سستا بنانے کے بارے میں بھی انھوں نے کچھ نہ کہا، اور نہ ہی اپنی غیر قانونی ٹیرف پالیسیوں کے باعث صارفین کو ملنے والی رقم کی واپسی پر کوئی بات کی۔صدر ٹرمپ کے خطاب کے دوران مسلمان ارکان کانگریس الہان عمر اور راشیدہ طلیب کا احتجاجدوسری طرف سینیٹر لنزے گراہم نے صدر ٹرمپ سے ایران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں فوجی تیاریوں سے پیچھے ہٹنا تہران کو مزید حوصلہ دے گا۔