اقوام متحدہ کا سوڈان میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ

Wait 5 sec.

نیویارک: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے سوڈان بھر میں جاری تشدد، بالخصوص کردفان اور دارفور کی ریاستوں میں بڑھتی ہوئی جھڑپوں پرتشویش کا اظہار کرتے ہوئے فریقین سے فوری طور پر جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق سلامتی کونسل کے ارکان نے ایک پریس بیان میں شہریوں، شہری تنصیبات اور انسانی امدادی عملے پر ڈرون حملوں کی اطلاعات کی سخت مذمت کی۔ بیان کے مطابق فروری 2026 کے آغاز سے متعدد حملے ایسے بھی ہوئے جن سے ورلڈ فوڈ پروگرام کی سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔رپورٹس کے مطابق کونسل کے ارکان نے کہا کہ انسانی امدادی کارکنوں، ان کے دفاتر اور اثاثوں پر دانستہ حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں، اور تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قانون اور متعلقہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی مکمل پاسداری کریں۔بیان میں سوڈانی ریپڈ سپورٹ فورسز کے شہریوں کے خلاف حملوں، خلاف ورزیوں، من مانی حراست اور تنازع سے جڑے جنسی تشدد کی اطلاعات کی بھی مذمت کی گئی اور ذمہ داروں کے احتساب کا مطالبہ کیا گیا۔سلامتی کونسل نے تنازع کے باعث پیدا ہونے والے قحط اور شدید غذائی عدم تحفظ پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے محفوظ اور بلا رکاوٹ انسانی امداد کی فراہمی اور شہریوں کی محفوظ نقل و حرکت کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔ارکان نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جنگ بندی کے معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ فوری جنگ بندی، کشیدگی میں کمی، علاقائی اثرات کو محدود کرنے اور سوڈانی عوام کی امنگوں کے مطابق ایک جامع اور شہری قیادت میں عبوری دور کی راہ ہموار کرے گا۔سلامتی کونسل نے تمام رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ کسی بھی بیرونی مداخلت سے گریز کریں جو تنازع اور عدم استحکام کو ہوا دے سکتی ہو، اور پائیدار امن کے قیام کی کوششوں کی حمایت کریں۔اسرائیلی حملے: لبنانی فوج کو بڑا حکم مل گیاکونسل نے سوڈان کی خودمختاری، آزادی، اتحاد اور علاقائی سالمیت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ریپڈ سپورٹ فورسز کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں متوازی حکومتی ڈھانچے کے قیام کی مخالفت بھی دہرائی۔