انقرہ (01 مارچ 2026): ترکیہ امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملے روکنے اور جنگ بندی کے لیے میدان میں آ گیا ہے۔صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ ترکیہ کے وزیرِ خارجہ، انٹیلی جنس چیف اور تمام متعلقہ حکام مسلسل رابطے میں ہیں، ہم جنگ بندی کے لیے اپنی سفارتی کوششیں تیز کر رہے ہیں۔ترک صدر نے ایران پر حملوں کی شدید مذمت کی، اردوان نے اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے کہا یہ حملے نیتن یاہو کی اشتعال انگیزیوں کا نتیجہ ہیں، اس پر ترکیہ کو شدید دکھ اور گہری تشویش ہے، ایران کی خودمختاری کی خلاف ورزی ناقابل قبول ہے۔ترک صدر نے خلیجی ملکوں پر ایران کے میزائل اور ڈرون حملے بھی ناقابلِ قبول قرار دیے، اور کہا دانش مندی سے کام نہ لیا گیا اور سفارت کاری کے لیے جگہ نہ چھوڑی گئی تو پورا خطہ آگ کی لپیٹ میں آ جائے گا۔ایران اسرائیل جنگ سے متعلق تمام خبریں یہاں پڑھیںایک بیان میں ترکیہ کی وزارتِ خارجہ نے بین الاقوامی قانون کے منافی کسی بھی اقدام پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور ان اشتعال انگیزیوں کی مذمت کی جو تشدد میں اضافے کا سبب بن سکتی ہیں اور بے گناہ شہریوں کی جانوں کو خطرے میں ڈال سکتی ہیں۔وزارت نے خبردار کیا کہ حالیہ پیش رفت، جس کا آغاز اسرائیل اور امریکا کے ایران پر حملوں سے ہوا اور بعد ازاں ایران کی جانب سے تیسرے ممالک کو نشانہ بنانے تک پھیل گئی، عالمی استحکام کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔انقرہ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ علاقائی مسائل کو پُرامن ذرائع سے حل کیا جانا چاہیے اور ثالثی کے لیے ضروری تعاون فراہم کرنے کی آمادگی ظاہر کی۔