(25 فروری 2026): مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر قانونی طور پر مقیم یہودی آباد کاروں نے فلسطینیوں کے خیمے اور گاڑیاں جلا کر راکھ کر دیں۔خبر رساں ایجنسی روئٹرز سے تصدیق شدہ ویڈیوز میں نقاب پوش افراد کا ایک گروہ دکھایا گیا جن کے بارے میں فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ وہ یہودی آباد کار تھے۔ وہ ہیبرون شہر کے قریب واقع ایک گاؤں کی طرف بڑھے اور فلسطینیوں کی املاک کو جلایا۔مقبوضہ مغرے کنارے کی رہائشی حلیمہ ابو عید نے بتایا کہ وہ تقریباً ہر روز ہم پر بار بار حملہ کرتے ہیں کیونکہ ہم مرکزی سڑک کے قریب رہتے ہیں، کل رات انہوں نے ہر جگہ آگ لگا دی۔یہ بھی پڑھیں: اسرائیلی آباد کاروں کا مغربی کنارے میں مسجد پر حملہ، بے حرمتیاسرائیلی فوج نے اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے فلسطینی املاک کو جان بوجھ کر جلانے کی اطلاعات پر کارروائی کیلیے سپاہی بھیجے اور واقعے کی تحقیقات شروع کر دیں۔اکتوبر 2023 میں غزہ جنگ کے آغاز کے بعد سے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف یہودی آباد کاروں کے تشدد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق 2026 میں اسرائیلی آباد کاروں کے حملوں کی وجہ سے 800 سے زائد فلسطینی بے گھر ہو چکے ہیں۔ایسے حملے اب عام ہو چکے ہیں جہاں نقاب پوش آباد کار رات کے وقت فلسطینی املاک کو تباہ کرنے یا رہائشیوں پر حملہ کرنے آتے ہیں کیونکہ اسرائیلی آباد کار مقبوضہ مغربی کنارے میں زمین کے بڑے حصوں پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔اقوام متحدہ نے 3 سے 16 فروری کے درمیان آباد کاروں کے تشدد کے کم از کم 86 واقعات ریکارڈ کیے جس کے نتیجے میں 146 فلسطینی بے گھر اور 64 زخمی ہوئے۔2025 کے آخر میں اسرائیلی مانیٹرنگ گروپ یش دن نے بتایا تھا کہ 7 اکتوبر 2023 سے اب تک دستاویزی شکل میں لائے گئے آباد کاروں کے تشدد کے سینکڑوں کیسز میں سے صرف 2 فیصد کے نتیجے میں فرد جرم عائد کی گئی۔