خامنہ ای کی شہادت: ہندوستان کے مختلف شہروں میں احتجاج، کشمیر میں تعلیمی ادارے دو روز کے لیے بند

Wait 5 sec.

نئی دہلی: تہران پر اسرائیل-امریکہ کے حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد اتوار کو ہندوستان کے مختلف شہروں میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے۔ کشمیر، لکھنؤ، دہلی اور رانچی سمیت کئی مقامات پر لوگوں نے سڑکوں پر نکل کر امریکہ اور اسرائیل کے خلاف نعرے لگائے اور ایران کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ بعض جگہوں پر دعائیہ اجتماعات اور تعزیتی نشستیں بھی منعقد کی گئیں۔کشمیر میں جاری احتجاج کے پیش نظر انتظامیہ نے وادی کے تمام اسکول، کالج اور یونیورسٹیاں دو دن کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ فیصلہ امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے کیا گیا۔ جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد عوام سے اپیل کی کہ وہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں اور کسی بھی اشتعال انگیزی سے گریز کریں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس اور سکیورٹی ادارے نظم و نسق کو برقرار رکھنے کے لیے پوری طرح مستعد ہیں۔سری نگر کے لال چوک اور دیگر مرکزی علاقوں میں پرامن احتجاج دیکھنے میں آیا جہاں بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوئے۔ ڈائریکٹر جنرل پولیس نلین پربھات اور دیگر اعلیٰ افسران نے حساس علاقوں کا دورہ کر کے انتظامات کا جائزہ لیا۔ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بھی عوام سے اپیل کی کہ وہ پُرامن رہیں اور کسی ایسی سرگرمی میں شامل نہ ہوں جس سے کشیدگی میں اضافہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ ایران میں موجود جموں و کشمیر کے طلبہ اور دیگر شہریوں کی حفاظت کے لیے ہندوستان کی وزارت خارجہ کے ساتھ رابطہ رکھا جا رہا ہے۔دہلی میں شیعہ جامع مسجد کے امام مولانا محمد علی محسن تقوی نے آیت اللہ علی خامنہ ای کو عالم اسلام کی اہم شخصیت قرار دیتے ہوئے تعزیتی اجتماع کا اعلان کیا۔ آل انڈیا امام ایسوسی ایشن کے صدر ساجد رشیدی نے بین الاقوامی احتساب کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ عالمی قوانین کی پاسداری ضروری ہے۔ لکھنؤ میں مظاہرین نے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف نعرے بازی کی اور کہا کہ وہ ایران کے ساتھ کھڑے ہیں۔ شیعہ برادری کے رہنما سید ثمر کاظمی نے کہا کہ خامنہ ای نے فلسطین کے مسئلے پر آواز بلند کی تھی۔رانچی میں بھی دو مقامات پر احتجاج کیا گیا۔ آل انڈیا شیعہ پرسنل لا بورڈ کی جھارکھنڈ یونٹ کی اپیل پر جعفریہ مسجد سے کربلا چوک تک مارچ نکالا گیا۔ مظاہرین نے عالمی برادری سے مداخلت کی اپیل کی اور خطے میں امن قائم رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ دوسری جانب بعض سیاسی و سماجی تنظیموں نے بھی امریکہ اور اسرائیل کی کارروائیوں کی مذمت کی۔مجموعی طور پر ملک کے مختلف حصوں میں احتجاجی مظاہرے زیادہ تر پُرامن رہے، تاہم انتظامیہ نے حساس علاقوں میں اضافی سکیورٹی تعینات کر رکھی ہے اور عوام سے اپیل کی جا رہی ہے کہ وہ افواہوں سے گریز کریں اور امن و امان کو برقرار رکھنے میں تعاون کریں۔