تہران(یکم مارچ 2026): امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملے میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایران کے دارالحکومت تہران میں لاکھوں سوگوار جمع ہو گئے ہیں۔رائٹرز کے مطابق اتوار کے روز تہران کے ‘میدانِ انقلاب’ میں سیاہ لباس پہنے ہزاروں افراد نے اپنے قائد آیت اللہ علی خامنہ ای کی تصاویر اور ایرانی پرچم تھامے شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔آیت اللہ علی خامنہ ای، جو 1989 سے ایران کے سپریم لیڈر تھے، اس وقت شہید ہوئے جب دونوں قوتوں امریکا اور اسرائیل نے ایرانی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش میں بڑے پیمانے پر جارحیت کا آغاز کیا۔ایرانی سرکاری میڈیا نے اتوار کی صبح ان کی شہادت کی تصدیق کی، جس کے کچھ دیر بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 86 سالہ مذہبی رہنما و ایرانی سپریم لیڈر کی ہلاکت کا اعلان کرتے ہوئے انہیں سخت الفاظ میں تنقید کا نشانہ بنایا۔ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے ایک تند و تیز بیان میں خامنہ ای کے "قاتلوں” کو عبرتناک اور فیصلہ کن سزا دینے کا عہد کیا ہے۔ آئی آر جی سی کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیل اور خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں کے خلاف تاریخ کا "خوفناک ترین” آپریشن شروع کریں گے۔واضح رہے کہ خلیجی ممالک پہلے ہی ایرانی میزائل حملوں کے نتیجے میں ہونے والے بھاری نقصان کا سامنا کر رہے ہیں جبکہ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جوابی کارروائی کی صورت میں ایران کو ایسی طاقت سے نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے جو "پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی”۔ادھر اتوار کے روز دوحہ، دبئی اور منامہ میں مزید دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جبکہ وسطی اسرائیل میں سائرن بج اٹھے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ ایرانی میزائل باری کا بھرپور جواب دے رہی ہے۔ایران سرائیل اور امریکا جنگ سے متعلق تمام خبریں جاننے کے لیے کلک کریں