ایران کے ساتھ مذاکرات سے خوش نہیں، ڈونلڈ ٹرمپ

Wait 5 sec.

ٹیکساس (28 فروری 2026): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کی طرف بڑھتے ہوئے مذاکرات سے ناخوشی کا اظہار کر دیا ہے۔ٹیکساس میں انتخابی ریلی کے خطاب سے پہلے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران ہمیں مطلوبہ چیزیں دینے کو تیار نہیں ہے، میں اس سے خوش نہیں ہوں۔انھوں نے کہا مذاکرات جاری رہیں گے لیکن موجودہ صورت حال پسند نہیں، ایران کو تیل کی موجودگی میں یورینیم افزودگی کی ضرورت نہیں ہے، ایران مذاکرات میں مطلوبہ حد تک آگے نہیں بڑھ رہا جو افسوس ناک ہے۔امریکی صدر نے کہا ایران 20 فی صد تک افزودگی چاہتا ہے لیکن ہم اتنا بھی نہیں چاہتے۔ایران پر پہلا حملہ اسرائیل کرے تو بہتر ہو گا، ٹرمپ کو مشیروں کی تجویزواضح رہے کہ جنگی جنون میں مبتلا اسرائیل نے ایران پر براہِ راست حملہ کر دیا ہے جس سے خطے میں کشیدگی انتہا کو پہنچ گئی، اسرائیلی وزیر دفاع نے باقاعدہ اعلان کیا ہے کہ اسرائیل نے ایران پر حملے شروع کر دیے ہیں۔اپنے بیان میں وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ایران کی جانب سے مسلسل ملنے والی دھمکیوں اور سیکیورٹی خطرات کے پیشِ نظر یہ جوابی کارروائی کی گئی ہے۔یاد رہے کہ ٹرمپ کو مشیروں نے تجویز دی تھی کہ ایران پر پہلا حملہ اسرائیل کی جانب سے ہو تو بہتر ہوگا، کیوں کہ اسرائیلی حملہ ایران کو جوابی کارروائی پر مجبور کرے گا، جس سے جوابی کارروائی کے لیے امریکا میں حمایت حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔