ہر ماہ معاشی تبدیلیاں ہوتی ہیں، جو لوگوں کے ماہانہ اخراجات کو متاثر کرتی ہیں۔ مارچ 2026 میں بھی کئی اہم تبدیلیاں ہو رہی ہیں، جن میں ایل پی جی گیس سے لے کر سم اور ریلوے ٹکٹ سے متعلق قواعد شامل ہیں۔ یہ تبدیلیاں آپ کی جیب کو براہ راست متاثر کر سکتی ہیں۔ آئیے جانتے ہیں کہ اگلے ماہ سے کون کون سے اصول بدل رہے ہیں۔ایل پی جی گیس سلنڈرہر ماہ کے آغاز میں ایل پی جی کی قیمتوں میں تبدیلی آتی ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے سے صرف کمرشل گیس سلنڈر کی قیمتوں میں ہی تبدیلی دیکھی گئی ہے، جبکہ گھریلو گیس سلنڈر کی قیمتیں اب بھی مستحکم ہیں۔ گزشتہ ماہ کمپنیوں نے 19 کلو والے کمرشل ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں تقریباً 49 روپے کا اضافہ کیا تھا۔ اس ماہ بھی اس میں تبدیلی کی توقع کی جا رہی ہے۔ریلوے ٹکٹیکم مارچ 2026 سے جنرل اور پلیٹ فارم ٹکٹ بک کرنے کا اصول تبدیل ہونے جا رہا ہے۔ اب ہندوستانی ریلوے کی پرانی یو ٹی ایس ایپ یکم مارچ سے بند کی جا سکتی ہے، جس کی جگہ اب نئی ’ریل وَن‘ ایپ مکمل طور پر فعال ہو جائے گی۔ اس نئی ایپ پر جنرل ٹکٹ، پلیٹ فارم ٹکٹ اور مقامی سفر سے متعلق تمام سہولیات دستیاب ہوں گی۔سم بائنڈنگ کا اصولحکومت ڈیجیٹل فراڈ کو روکنے کے لیے یکم مارچ سے سم بائنڈنگ کا نیا اصول لے کر آ رہی ہے۔ اس اصول کے تحت واٹس ایپ، ٹیلی گرام اور سگنل جیسی ایپس اب آپ کی سم سے براہ راست منسلک ہوں گی۔ اگر آپ اپنے فون سے سم نکالتے ہیں، تو یہ ایپس فوری طور پر کام کرنا بند کر دیں گی۔ آپ وائی فائی یا کسی دوسرے نیٹ ورک کے ذریعے بھی ان ایپس کو سم کے بغیر استعمال نہیں کر پائیں گے۔ یو پی آئی پیمنٹیکم مارچ 2026 سے ڈیجیٹل پیمنٹ سسٹم میں سیکورٹی کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے۔ بڑی رقم کا آن لائن ٹرانسفر اب صرف یو پی آئی پِن سے نہیں ہوگا، بلکہ بینک اب ہائی ویلیو ٹرانزیکشن کے لیے اضافی بائیو میٹرکس یا ملٹی فیکٹر آتھنٹیکیشن کو لازمی قرار دینے جا رہے ہیں۔کم از کم بیلنس کا اصولملک کے بڑے سرکاری بینک یکم مارچ 2026 سے کم از کم بیلنس کے حوالے سے تبدیلی کرنے جا رہے ہیں۔ پہلے کسی ایک دن بینک اکاؤنٹ میں بیلنس کم ہونے پر جرمانہ لگ جاتا تھا، لیکن اب اوسط ماہانہ بیلنس کی بنیاد پر جرمانہ عائد کیا جائے گا۔سی این جی، پی این جی، اور اے ٹی ایف کے نرخپیٹرولیم ڈسٹری بیوٹر کمپنیاں ہر ماہ کی پہلی تاریخ کو ہوائی جہاز میں استعمال ہونے والے ایئر ٹربائن فیول (اے ٹی ایف) کے ساتھ سی این جی اور پی این جی کی قیمتوں میں تبدیلی کرتی ہے۔ توقع ہے کہ یکم مارچ سے ان ضوابط میں بھی تبدیلی ہو سکتی ہے۔