رنجی ٹرافی کرکٹ مقابلے میں جموں وکشمیرکرکٹ ٹیم 67 سالوں میں پہلی بارتاریخ رقم کرنے سے اب محض چند قدم دور ہے۔ ہُبلی میں کھیلے جانے والے فائنل میچ میں شاندار کارکردگی کے بعد جموں وکشمیر کرکٹ ٹیم اپنے پہلے رنجی ٹرافی خطاب کے قریب پہنچ گئی ہے۔ اس دوران ٹیم کے کھلاڑیوں کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے ریاست کے وزیراعلیٰ عمرعبداللہ اپنے مشیراور دیگرعہدیداروں کے ساتھ اس تاریخی لمحے کا گواہ بننے کے لیے کرناٹک کے ہُبلی پہنچے ہیں۔’ سب کچھ لُٹا کر ہوش میں آئے تو ...‘ جموں و کشمیر میں پی ایس اے ہٹانے کی بات کر رہے عمرعبد اللہ پر اویسی کا طنزوزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے ٹیم کے ایک بڑی کامیابی کے قریب پہنچنے پرفخراورامید کا اظہارکرتے ہوئے سوشل میڈیا پر اپنے جوش کو شیئرکیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹیم نے پہلے ہی فائنل میں پہنچ کر’لاکھوں لوگوں کو فخر‘ کرنے کا موقع دیا ہے اورجب وہ ایک شاندار فتح کے قریب پہنچ رہی ہے تو اسٹینڈز سے ان کی حوصلہ افزائی کے لیے پُرجوش ہیں۔مشکل حالات میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا، ریاستی درجے کی بحالی ناگزیر: عمر عبداللہOn our way to Hubli to cheer the J&K cricket team as they play the final of the Ranji Trophy. They’ve already made lakhs of people so very proud of their achievements by reaching the final. I’m really looking forward to spending the day tomorrow in the stands cheering them on. pic.twitter.com/rvBTpyhnac— Omar Abdullah (@OmarAbdullah) February 27, 2026وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے ’ایکس‘ پرایک پوسٹ میں کہا کہ وہ جموں و کشمیر کرکٹ ٹیم کی حوصلہ افزائی کرنے کے لیے ہبلی جا رہے ہیں۔ انہوں رنجی ٹرافی کے فائنل میں پہنچ کراپنی کامیابی سےلاکھوں لوگوں کو بہت فخر محسوس کرایا ہے۔ عمرعبداللہ نے مزید لکھا کہ میں واقعی ہفتہ (28 فروری) کو اسٹینڈز میں ان کا حوصلہ بڑھانے کے لیے پُرجوش ہوں۔ وزیراعلیٰ کے ساتھ ان کے مشیر ناصر اسلم وانی، ایم ایل اے اور این سی کے ترجمان تنویر صادق اور پہلگام کے ایم ایل اے الطاف وانی بھی موجود ہیں۔بتادیں کہ جموں و کشمیر کی ٹیم نے میدان پراپنا پورا دبدبہ قائم کررکھا ہے جس سے کرناٹک کرکٹ ٹیم کو اپنی تال تلاش کرنے کے لیے جدوجہد کرتی نظر آرہی ہے۔ جموں وکشمیر کی ٹیم نے پہلی اننگز میں 291 رنز کی سبقت حاصل کرنے کے بعد اپنی دوسری اننگز میں مزید مضبوطی حاصل کر لی ہے۔ ٹیم کی کارکردگی سے ماہرین بھی جموں وکشمیر کرکٹ ٹیم کو رنجی ٹرافی خطاب کا مضبوط دعویدار مان رہے ہیں۔