’جمہوری مخالفت کو دہشت گردی ٹھہرانا جمہوریت کا قتل‘، یوتھ کانگریس کارکنان پر درج دفعات کو کانگریس نے بتایا ظالمانہ

Wait 5 sec.

کانگریس نے اے آئی سمٹ کے دوران پُرامن مظاہرہ کرنے والے یوتھ کانگریس کارکنان پر درج مجرمانہ دفعات کو قانون کا ظالمانہ استعمال قرار دیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ پُرامن جمہوری مخالفت کو دہشت گردی یا سازش کے زمرہ میں رکھنا جمہوریت کا ایک طرح سے قتل ہے۔We express deep, pervasive, and serious concern over the manner in which criminal charges have been levelled against individuals for what was, in essence, nothing more than a political protest. There is nothing here that could remotely, by even the most perverse distortion, be… pic.twitter.com/2UxfaZM1Jg— Congress (@INCIndia) February 26, 2026کانگریس ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کے سینئر لیڈر ڈاکٹر ابھشیک منو سنگھوی نے کہا کہ مظاہرین پر لگائی گئیں دفعات دلیلوں سے میل نہیں کھاتی ہیں۔ یوتھ کانگریس کارکنان کے خلاف کسی طرح کے تشدد یا مجرمانہ منشا کے ثبوت نہیں ہیں۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’بھارت منڈپم‘ ایک پبلک پلیس ہے، نہ کہ کسی کی ذاتی رہائش۔ اس کا موازنہ کسی کے گھر یا بیڈروم سے کرنا نامناسب ہے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’حکومت سے جواب مانگنا دہشت گردی نہیں ہے اور احتجاج کے طور طریقوں کو فوجداری جرم کے زمرہ میں نہیں رکھا جا سکتا۔‘‘यूथ कांग्रेस के विरोध प्रदर्शन मामले में कुछ गलत दलीलें दी गई हैं कि किसी के घर में घुस जाना ठीक नहीं है।मैं साफ कर दूं- भारत मंडपम कोई प्राइवेट प्रॉपर्टी नहीं है, ये एक सार्वजनिक जगह है। ऐसे में उसकी तुलना घर से नहीं की जा सकती। वहीं, सरकार से जवाब मांगना आतंकवाद नहीं… pic.twitter.com/udDRdUqQ0l— Congress (@INCIndia) February 26, 2026سپریم کورٹ کے سینئر ایڈووکیٹ ڈاکٹر سنگھوی نے دہلی پولیس کے ذریعہ عائد کردہ دفعات کی فہرست شیئر کرتے ہوئے ایک ایک کر ان پر سوال اٹھائے۔ انھوں نے کہا کہ دفعہ 121 کے تحت مرضی سے چوٹ یا سنگین چوٹ پہنچانے کا الزام ہے۔ لیکن ایسا کب اور کہاں ہوا؟ دفعہ 132 کے تحت عوامی خادم کو فرائض سے روکنے کے لیے حملہ کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ کس عوامی خادم کے ساتھ ایسا ہوا؟ دفعہ 221 کے تحت عوامی خادم کے کاموں میں رخنہ ڈالنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ کارکنان نے مظاہرہ کیا، لیکن رخنہ کہاں ڈالا گیا؟ مقدمہ میں لگائی گئیں دفعات 153اے اور 197 پر سنگھوی نے طنز کستے ہوئے کہا کہ کیا کسانوں اور روزگار کے ایشوز اٹھانا قومی اتحاد کے لیے خطرہ ہے؟ کیا نوجوانوں کے مظاہرہ سے گروپوں کے درمیان دشمنی پیدا ہوئی؟ انھوں نے اس معاملہ میں ’کامن انٹنشن‘ اور ’کریمنل کانسپریسی‘ کو بھی جوڑنے پر سوالات اٹھائے۔IYC के मामले पर प्रावधानों की लिस्ट • Section 121: Voluntarily causing hurt and grievous hurt- मुझे बताया जाए, इस मामले में ऐसा कहां कुछ हुआ? • Section 132: Assault or criminal force to deter a public servant- प्रदर्शन में ऐसा कब हुआ, किस public servant के साथ ऐसा हुआ?… pic.twitter.com/rMTJqvbqUa— Congress (@INCIndia) February 26, 2026لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی کے بیان کی حمایت کرتے ہوئے ڈاکٹر سنگھوی نے کہا کہ آج کے ہندوستان میں پرامن مظاہرہ کرنا ہی سب سے بڑا جرم بن گیا ہے۔ حکومت جنوبی کوریا جیسی تاناشاہی چلا رہی ہے اور عدم اتفاق کو غداری و سوالات کو سازش بتایا جا رہا ہے۔ مودی حکومت کی گزشتہ 11 سالہ حکومت میں احتجاجی مظاہروں کو کچلنے کی مثالیں شمار کراتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اپنے مستقبل کا مطالبہ کرنے والے نوجوانوں پر لاٹھیاں چلائی گئیں۔ بی جے پی لیڈر برج بھوشن شرن سنگھ کے خلاف آواز اٹھانے والی بیٹیوں کو سڑکوں سے گھسیٹ کر ہٹایا گیا۔ کسانوں کو ملک مخالف کہہ کر ان پر آنسو گیس و ربڑ کی گولیاں داغی گئیں۔ کانگریس لیڈر نے یہ بھی کہا کہ جب اقتدار خود کو ملک سمجھنے لگے اور عدم اتفاق کو دشمن، تب جمہوریت مر جاتا ہے۔ انھوں نے ایک ساتھ 150 اراکین پارلیمنٹ کی معطلی کو جمہوریت کی تاریخ میں سیاہ باب قرار دیا اور حزب اختلاف کے قائد کو بولنے سے روکے جانے پر بھی حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کیا۔नेता विपक्ष राहुल गांधी जी ने सही कहा- आज भारत में Compromised PM के राज में शांतिपूर्ण विरोध करना ही सबसे बड़ा “अपराध” बना दिया गया है।दुनिया के सबसे बड़े लोकतंत्र को धीरे-धीरे ऐसी दिशा में धकेला जा रहा है, जहां असहमति को देशद्रोह और सवाल पूछने को साज़िश बताया जाता है।सोचिए… pic.twitter.com/Sf6p57lsRq— Congress (@INCIndia) February 26, 2026پریس کانفرنس میں ڈاکٹر سنگھوی نے بھروسہ ظاہر کیا کہ عدلیہ اس پورے معاملے کا مجموعی نظریہ سے نوٹس لے گی۔ انھوں نے کہا کہ ’دہشت گردی‘ اور ’ملک غداری‘ جیسے الفاظ کا استعمال پوری طرح غلط ہے۔ مودی حکومت جتنا زیادہ ان نوجوانوں کی آواز کو دبائے گی اور اسے سنسنی خیز بنائے گی، ان نوجوانوں کے ایشوز اتنے ہی ابھر کر سامنے آئیں گے۔