ایپسٹین فائلز کی دھمکی پر تجارتی معاہدہ؛ راہول گاندھی نے مودی کی اصلیت بے نقاب کر دی

Wait 5 sec.

ممبئی (26 فروری 2026): کانگریس رہنما راہول گاندھی نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دباؤ میں تجارتی معاہدہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے اسے ملکی کسانوں کی قربانی قرار دے دیا۔انڈین میڈیا کے مطابق راہول گاندھی نے الزام لگایا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایپسٹین فائلز کی دھمکی دیتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی کو ایک ایسے تجارتی معاہدے پر دستخط کرنے کیلیے دباؤ ڈالا جو کسانوں کو قربان کر دے گا۔لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے ضلع کنور میں کسانوں کے ایک کنونشن سے خطاب میں کہا کہ مودی حکومت یہ سمجھنے میں ناکام رہی کہ کسان ملک کی بنیاد ہیں، اگرچہ آئی ٹی اور دیگر شعبوں کے بارے میں طویل لیکچر دیے جاتے ہیں لیکن اس بنیاد کو مضبوط کیے بغیر کچھ بھی تعمیر نہیں کیا جا سکتا۔یہ بھی پڑھیں: مودی پاک بھارت جنگ سے متعلق ٹرمپ کے دعوے کا جواب دیں، راہول گاندھی’اگر آپ بنیاد کی قدر نہیں کرتے تو کچھ بھی تعمیر نہیں ہو سکتا۔ وہ شخص جو بنیاد رکھتا ہے اسے نہ تو عزت ملتی ہے اور نہ ہی تحفظ۔ ہم روزانہ کھانا کھاتے ہیں لیکن یہ یاد نہیں رکھتے کہ اسے ہمارے دسترخوان تک کون پہنچاتا ہے؟ مودی نے امریکی صدر کے ساتھ ایک ایسے معاہدے پر دستخط کیے ہیں جو بنیاد کھودنے کے مترادف ہے۔‘کانگریس رہنما نے دعویی کیا کہ بھارتی کسان چھوٹے کسان ہیں جن کے پاس مشینی وسائل کم ہیں جبکہ اس کے برعکس امریکی کسانوں کے پاس بڑے فارمز اور اعلیٰ درجے کی مشینری ہے۔ امریکی کسانوں کو بھارتی زرعی منڈیوں تک رسائی دینا ایک مجرمانہ فعل ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ماضی میں کسی بھی وزیر اعظم نے امریکی کسانوں کو بھارت میں سویابین، مکئی اور پھل جیسی مصنوعات فروخت کرنے کی اجازت نہیں دی ہوگی، یہ اس بنیاد کو تباہ کرنے والا ہے جسے ہم نے بڑی احتیاط سے بنایا تھا، سبز اور سفید انقلابات اس لیے آئے کیونکہ ہمارا ماننا تھا کہ ہمیں زراعت میں ایک مضبوط بنیاد کی ضرورت ہے۔راہول گاندھی نے کہا کہ زراعت پر اختلافات کی وجہ سے بھارت امریکا معاہدہ چار ماہ تک رکا رہا، ڈونلڈ ٹرمپ مودی کو دھمکیاں دے رہے تھے۔’تقریباً 35 لاکھ ایپسٹین فائلز ابھی تک جاری نہیں کی گئیں یہ امریکی حکومت کے پاس خفیہ ہیں۔ ان فائلوں میں بھارت کے وزیر اعظم کے بارے میں معلومات موجود ہیں۔ مرکزی وزیر ہردیپ پوری اور انیل امبانی کے بارے میں جاری کردہ معلومات کا اصل ہدف نریندر مودی ہی ہیں۔‘راہول گاندھی نے دعویٰ کیا کہ دوسرا ہتھیار جو وزیر اعظم کے سر پر رکھا گیا ہے وہ امریکا میں اڈانی کیس ہے، اڈانی کوئی عام کمپنی نہیں بلکہ بی جے پی اور وزیر اعظم کا مالیاتی ڈھانچہ ہے، امریکا نے اڈانی کے خلاف کیس درج کر رکھا ہے اور وہ اس وقت ملک سے باہر نہیں جا سکتے۔’وزیر اعظم کو دی جانے والی دھمکی واضح ہے کہ اگر آپ وہ نہیں کریں گے جو ہم چاہتے ہیں تو ہم آپ کا اور بی جے پی کا تمام مالیاتی ڈھانچہ سب کے سامنے بے نقاب کر دیں گے۔‘