اہم اپوزیشن پارٹی کانگریس وزیر اعظم نریندر مودی پر لگاتار حملے کر رہی ہے۔ یہ حملے ہند-امریکہ تجارتی معاہدہ کے لیے بھی ہو رہے ہیں اور یوتھ کانگریس کارکنان کے خلاف ہو رہی کارروائی کے لیے بھی۔ ایسپٹین معاملہ پر وزیر اعظم کی خاموشی کو بھی سرکردہ کانگریس لیڈران تنقید کا نشانہ بنا رہے۔ اس درمیان کانگریس نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر ایک ویڈیو جاری کر طنزیہ انداز میں وزیر اعظم مودی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔नरेंद्र मोदी की ख़्वाहिश pic.twitter.com/Kt6cYRYiC9— Congress (@INCIndia) February 27, 2026اس ویڈیو میں طنز کے تیر چلاتے ہوئے کانگریس نے سوال کیا ہے کہ سوچیے، اگر نریندر مودی کو ایک چراغ مل جائے تو وہ کیا مانگیں گے؟‘‘ اس سوال کو قائم کرنے کے بعد کانگریس نے پی ایم مودی کی جن ممکنہ خواہشات کو پیش کیا ہے، وہ اس طرح ہیں:ہر طرف نفرت کا بازار ہودوست اڈانی کا پوری دنیا میں کاروبار ہودنیا ایپسٹین کا نام بھول جائےنریندر سرینڈر بول کر کوئی مودی کو نہ چِڑھائےلوگ ان سے سوال پوچھنا چھوڑ دیںسرکار سے کام کرنے کی ساری امیدیں توڑ دیںلوگ مہنگائی و بے روزگاری پر آواز نہ اٹھائیںبی جے پی کے لیڈران جم کر لوٹ کھسوٹ کریں لیکن کبھی پکڑے نہ جائیںمشروم کا ناشتہ کر بیرون ملکی سفر چلتا رہےووٹ چوری کر بی جے پی کی حکومت بنتی رہےکانگریس نے مزید ایک ویڈیو جاری کی ہے، جس میں وزیر اعظم نریندر مودی کو ’ڈرپوک‘ قرار دیا گیا ہے۔ ویڈیو میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ آج ملک انھیں ’ڈرپوک‘ کہہ رہا ہے، اور اس کے پیچھے کئی وجوہات ہیں۔ انگریزی زبان میں جاری اس ویڈیو میں بتایا گیا ہے کہ ’’آج ملک کہہ رہا ہے ’مودی ڈرپوک ہے‘، اور اس کے پیچھے کوئی ایک وجہ نہیں ہے، بلکہ کئی وجوہات ہیں۔‘‘ آگے کہا گیا ہے کہ ’’11 سال قبل جو انھوں نے وعدے کیے تھے، آج حالات اس کے برعکس ہیں۔ شروعات وہاں سے ہوتی ہے جب ان سے ڈگری دکھانے کے لیے کہا جاتا ہے، لیکن ڈرپوک مودی نے کوئی جواب نہیں دیا۔ آج وہی ڈرپوک پریس کانفرنس کرنے سے ڈرتے ہیں، 11 سال میں ایک بھی پریس کانفرنس نہیں کیا۔‘‘Darpok Pradhan Mantri pic.twitter.com/d9gqbng3M7— Congress (@INCIndia) February 27, 2026اس ویڈیو میں سخت انداز اختیار کرتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ ’’ڈرپوک مودی پارلیمنٹ میں کسانوں، نوجوانوں کی بے روزگاری اور مہنگائی پر مباحث سے بھی ڈرتے ہیں۔ ڈرپوک اتنے ہیں کہ خاتون اراکین پارلیمنٹ سے ڈرتے ہیں۔ یہ اے آئی ویڈیوز سے بھی ڈرتے ہیں۔‘‘ ویڈیو میں مزید بتایا گیا ہے کہ ’’ڈرپوک مودی عام ’ٹی-شرٹ‘ سے بھی ڈرتے ہیں۔ کچھ ایسے نام بھی ہیں جن کو لینے سے ڈرپوک مودی گھبرا جاتے ہیں، مثلاً جیفری ایپسٹین، شی جنپنگ، ڈونالڈ ٹرمپ۔‘‘ کانگریس کا کہنا ہے کہ اہم ایشوز پر پی ایم مودی کا خاموش رہ جانا ثابت کرتا ہے کہ وہ ’ڈرپوک‘ ہیں۔ ویڈیو کے آخر میں یہی نتیجہ اخذ کیا جاتا ہے کہ ’’مضبوط لیڈران سوالوں کا جواب دیتے ہیں اور ڈرپوک لیڈران خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔ اس لیے اگر عوام ’مودی ڈرپوک ہے‘ کہتی ہے، تو وہ اب تک سامنے موجود ریکارڈ کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔‘‘