’اڑان منصوبہ‘ کے تحت اتر پردیش میں شروع 7 ہوائی اڈوں میں سے 6 بند پڑے، کانگریس مودی حکومت پر حملہ آور

Wait 5 sec.

اتر پردیش میں ’اڑان‘ (یو ڈی اے این– اڑے دیش کا عام ناگرک) منصوبہ کے تحت زور و شور سے شروع ہوئے 7 ایئرپورٹس میں سے 6 ایئرپورٹس پوری طرح غیر فعال نظر آ رہے ہیں۔ اس سلسلے میں ایک رپورٹ سامنے آئی ہے، جس نے اپوزیشن پارٹی کانگریس کو مودی حکومت پر حملہ کا مزید ایک موقع فراہم کیا ہے۔ کانگریس نے اس معاملہ میں وزیر اعظم مودی اور ان کی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ ٹیکس دہندگان کے کروڑوں روپے یونہی ضائع کیے جا رہے ہیں۔What happens when crores are spent without research, planning, or vision?You get grand inaugurations, glossy headlines, and absolute failure on the ground.And let’s be clear: this is taxpayers’ money, not the BJP’s personal PR fund.This is yet another glaring example of… pic.twitter.com/bexbUsDrIf— Congress (@INCIndia) February 24, 2026کانگریس نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر انڈیا ٹوڈے کی ایک ویڈیو رپورٹ شیئر کی ہے، جس کے ساتھ لکھا ہے کہ ’’جب تحقیق، منصوبہ بندی یا ویژن کے بغیر کروڑوں روپے خرچ کر دیے جائیں تو آپ کو صرف شاندار افتتاحی تقریبات، چمکدار سرخیاں اور زمینی سطح پر مکمل ناکامی ملتی ہے۔‘‘ ساتھ ہی یہ بھی لکھا گیا ہے کہ ’’یاد رہے، یہ ٹیکس دہندگان کا پیسہ ہے، بی جے پی کا ذاتی ’پی آر فنڈ‘ نہیں۔‘‘کانگریس نے ’اڑان منصوبہ‘ کے تحت بغیر کسی ریسرچ ایئرپورٹس تیار کیے جانے کو ’بے ویژن‘ ٹھہرایا ہے۔ پارٹی نے کہا کہ ’’یہ نریندر مودی کے ایسے ’ویژن‘ کی مزید ایک نمایاں مثال ہے، جو کہ ’بے ویژن‘ ہے۔‘‘ آگے پارٹی لکھتی ہے ’’اتر پردیش میں اڑان منصوبہ کے تحت بڑے شور و غوغا کے ساتھ شروع کیے گئے 7 ہوائی اڈوں میں سے 6 آج بند پڑے ہیں۔ یہ غیر فعال ایئرپورٹس اعظم گڑھ، علی گڑھ، چترکوٹ، شراوَستی، مراد آباد اور کشی نگر میں ہیں۔‘‘ ساتھ ہی یہ بھی جانکاری دی گئی ہے کہ ’’ان میں سے بیشتر ہوائی اڈوں کا افتتاح 2024 کے لوک سبھا انتخاب سے عین قبل جلدبازی میں کیا گیا۔ چند ہی مہینوں میں پروازیں معطل کر دی گئیں۔‘‘امریکی سپریم کورٹ نے ٹیرف پر روک لگا دی، مودی میں ہمت ہے تو تجارتی معاہدہ منسوخ کریں: راہل گاندھیایئرپورٹس کی غیر فعالیت کے لیے بی جے پی حکومت نے جو وجہ بتائی، اس پر بھی کانگریس نے تنقید کی ہے۔ کانگریس نے سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’ایئرپورٹس بند ہونے کا جواز کم طلب، ناقص رابطہ، تکنیکی مسائل مثلاً کم حد نگاہ اور ایئرلائنز کے لیے منافع نہ ہونا وغیرہ بتایا گیا ہے۔ لیکن کچھ ایسے سوالات ہیں، جن کے جواب اب تک نہیں دیے گئے۔‘‘ کانگریس نے جو سوالات قائم کیے ہیں، وہ یہ ہیں:سینکڑوں کروڑ روپے ضائع ہونے کا ذمہ دار کون ہے؟بغیر منصوبہ بندی شروع کیے گئے منصوبوں کا احتساب کون کرے گا؟مودی حکومت ’پی آر‘ کے تماشوں میں کیوں مگن ہے، جبکہ زمینی طور پر حکمرانی ناکام ہو رہی ہے؟اتر پردیش میں اڑان منصوبہ کے ساتھ ہوئے حشر پر کانگریس نے بے حد افسوس کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ’’یہ ترقی نہیں ہے، یہ ویژن نہیں ہے۔ یہ سرخیوں کے لیے کی جانے والی سیاست ہے، بغیر کسی احتیاط کے کیا جانے والا خرچ ہے، اور ایک بڑی ناکامی ہے۔‘‘