’کٹا ہوا سر لیکر 21 کلومیٹر کا سفر کیا‘: بیٹے کے ہاتھوں باپ کی موت کی لرزہ خیز واردات

Wait 5 sec.

(24 فروری 2026): بھارت کے شہر لکھنؤ میں سفاک بیٹے کے ہاتھوں باپ کے قتل کی لرزہ خیز واردات کے بارے میں جان کر لوگوں پر کپکپی طاری ہوگئی۔انڈین میڈیا کے مطابق لکھنؤ میں ہونے والے سنسنی خیز قتل کی مزید تفصیلات سامنے آگئی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک 21 سالہ بیٹے نے شواہد مٹانے کی کوشش میں اپنے باپ کی لاش کے نہایت بے رحمی سے ٹکڑے کیے۔ملزم اکشت پرتاپ سنگھ نے 20 فروری کی علی الصبح گھر کے تیسری منزل پر جھگڑے کے دوران اپنے باپ مانویندر سنگھ کو لائسنس یافتہ رائفل سے قتل کیا جس کے بعد اس نے لاش کو ایک ڈرم میں ڈالنے کی کوشش کی لیکن جب لاش پوری نہ آئی تو اس نے آری سے ہاتھ کاٹ دیے۔ ٹانگیں اور سر بھی ڈرم میں نہ جانے کی وجہ سے اس نے انہیں بھی تن سے جدا کیا۔یہ بھی پڑھیں: سسر اور شوہر نے کلہاڑی کے وار کر کے خاتون کو قتل کر دیاتفصیلات کے مطابق ملزم کٹا ہوا سر کار میں رکھ کر گھر سے 21 کلومیٹر دور پھینک آیا، ہاتھ اور پاؤں شک سے بچنے کیلیے شہر کے مختلف مقامات پر چھپائے، دھڑ کو نیلے رنگ کے ڈرم میں چھپا دیا جبکہ رائفل کو ایک گڑھے میں دبا دیا۔ابتدا میں اکشت پرتاپ سنگھ نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ وہ میڈیکل داخلہ ٹیسٹ کیلیے والد کی طرف سے ڈالے جانے والے مسلسل دباؤ کی وجہ سے ذہنی تناؤ کا شکار تھا، مقتول بیوی کی وفات کے بعد بیٹے کو ڈاکٹر بنتا دیکھنا چاہتے تھے۔خاندان کے دیگر افراد کے مطابق اصل تنازع خاندانی کاروبار پر تھا، مقتول کے لکھنؤ میں چار پیتھالوجی لیبز اور شراب کی تین دکانیں تھیں، بیٹا پڑھائی کے بجائے اس بنے بنائے کاروبار کو سنبھالنا چاہتا تھا جبکہ والد کا اصرار تھا کہ وہ پہلے ڈگری مکمل کرے۔20 فروری کو جب والد نے دوبارہ پڑھائی کا ذکر کیا تو جھگڑا ہوگیا۔ بیٹے نے باپ کی رائفل سے ان کے سر میں گولی مار دی، فائرنگ کی آواز سن کر ملزم کی چھوٹی بہن کریتی کمرے سے باہر آئی تو سامنے ہولناک منظر تھا۔21 فروری کو ملزم نے پہلے پولیس کو گمراہ کیا کہ اس کے والد دہلی گئے ہیں لیکن اس کے بیانات میں تضاد نے شک پیدا کر دیا، فارنزک ٹیم کو گھر سے خون کے نشانات اور گاڑی کی ڈگی میں مشکوک دھبے ملے جس کے بعد کیمیائی تجزیے نے قتل کا بھانڈا پھوڑ دیا۔