تہران (28 فروری 2026): ایران میں سپریم کمانڈر خامنہ ای کے محفوظ کمپاؤنڈ پر امریکی اسرائیلی حملہ ہوا ہے، جس کے بعد اس کمپاؤنڈ کی ایک سیٹلائٹ تصویر سامنے آئی ہے۔فارس خبر رساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ ایران کے اعلیٰ حکام ’’مکمل طور پر خیریت‘‘ سے ہیں، جن میں صدر مسعود پیزشکیان، پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور سیکیورٹی امور کے سربراہ علی لاریجانی شامل ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ اسرائیلی ذرائع نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے صدر اور ایران کی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنایا اور حملے میں کامیابی حاصل کی، تاہم ملک کے اندر سرکاری ذرائع کے مطابق اعلیٰ حکومتی عہدیداران، بشمول مسلح افواج کے سربراہان، مکمل طور پر خیریت سے ہیں۔حملے کے بعد خامنہ کے محفوظ کمپاؤنڈ کی تصویرایک امریکی اہلکار نے الجزیرہ کو بتایا کہ وہ ایران پر فضا اور سمندر سے ’’وسیع‘‘ حملے جاری رکھے گا، اہلکار نے کہا کہ امریکی-اسرائیلی حملوں کا مقصد ایرانی سیکیورٹی اپریٹس کو ختم کرنا ہے اور یہ فی الحال ایران کے اندر اہداف تک محدود ہے۔ایران اسرائیل جنگ سے متعلق تمام خبریں یہاں پڑھیںواضح رہے کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ایرانی رجیم کے خطرے کو ختم کرنے کے لیے امریکا اور اسرائیل نے آپریشن شروع کیا ہے۔ یہ آپریشن ایرانی عوام کے لیے تقدیر اپنے ہاتھ میں لینے کے حالات پیدا کرے گا، ایران کو جوہری ہتھیاروں سے مسلح ہونے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔