رمضان اور ہولی کے پیش نظراترپردیش کے گورکھپور میں مشہور برانڈز کے سرسوں کا تیل استعمال کرنے والے ہوشیار ہوجائیں، کہیں ایسا نہ ہوکہ آپ بھی ایکسپائری سرسوں کا تیل کھا کر اپنی صحت کے ساتھ کھلواڑ کررہے ہیں کیونکہ ملاوٹ خور بھی آپ کی صحت سے کھلواڑ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑرہے ہیں۔ ان حالات میں محکمہ خوراک کی ٹیم نے 24 لاکھ روپے مالیت کا تیل قبضے میں لیا ہے۔ اس میں 14 لاکھ روپے مالیت کا رائس بران ریفائنڈ آئل بھی شامل تھا، جسے پیکیجنگ اور پرنٹنگ کے ذریعے ممکنہ طور پر خریداروں کو گمراہ کیا گیا۔اس کے ساتھ ہی 10 لاکھ روپے مالیت کا ایکسپائری سرسوں کا تیل تلف کرنے کے لیے قبضے میں لیا گیا ہے۔ یہ ایک ساتھ ذخیرہ کیا گیا تھا۔ ہولی کے پیش نظر محکمہ تحفظ خوراک کی جانب سے ملاوٹ کرنے والوں کے خلاف مہم چلائی جارہی ہے۔ اس سلسلے میں محکمہ خوراک کی 3 ٹیموں نے چھاپے مار کر 14 لاکھ روپے کا تیل قبضے میں لیا ہے۔ اگر یہ معیار میں ٹھیک ہوگا تو تاجراس کو لیبل بدل کر مارکیٹ میں لا سکتے ہیں بصورت دیگر اسے بھی تلف کر دیا جائے گا۔ علاوہ ازیں 10 لاکھ روپے مالیت کا سرسوں کا ایکسپائری تیل بھی اسی کے ساتھ رکھا گیا تھا۔ اس کو بھی تلف کرنے کے لیے ضبط کر لیا گیا ہے۔دیوالی سے قبل بازاروں میں ناقص اور مضرِ صحت خوردنی اشیاء کی بہتات، متعدد شہروں میں نقلی میٹھائیاں ضبطخبروں کے مطابق جمعہ کے روز گورکھپور کے سہجنوا میں محکمہ خوراک کی ٹیم نے جی آر ایل ایڈیبل پرائیویٹ لمیٹڈ کے گودام پر چھاپہ مارا اور 24 لاکھ روپے کا تیل ضبط کیا۔ اس میں14 لاکھ روپئے کے چاول کی چوکر کا ریفائنڈ تیل اور 10 لاکھ روپئے قیمت کا سرسوں کا تیل بھی تھا جسے ضبط کرلیا گیا ہے۔ معیاد ختم ہونے والا تیل جلد ہی تلف کردیا جائے گا تاکہ وہ دوبارہ مارکیٹ میں فروخت نہ ہوسکے۔ اس کارروائی میں ٹیم نے تقریباً 38 سے 40 کوئنٹل تیل ضبط کیا ہے۔چاول کی چوکر کا تیل رادھا رانی برانڈ کا ہے جب کہ ایکسپائر سرسوں کا تیل گھنی برانڈ کا ہے۔ تازہ تیل اور معیاد ختم ہونے والے تیل کو الگ الگ ذخیرہ کیا جانا تھا لیکن اس گودام میں دونوں تیل ایک ساتھ رکھے تھے۔ جب اس کی وجہ پوچھی گئی تو تاجر نے کہا کہ ایکسپائر مال بازار سے واپس لایا گیا ہے۔ فوڈ سیفٹی ٹیم نے رادھا رانی برانڈ کے ریفائنڈ رائس بران اور گھنی برانڈ کے سرسوں کے تیل کے نمونے جانچ کے لیے بھیج دیئے ہیں۔