پاکستانی سفارتخانے واشنگٹن ڈی سی میں بین المذاہب افطار کی تقریب

Wait 5 sec.

واشنگٹن (27 فروری 2026): پاکستانی سفارتخانے واشنگٹن ڈی سی میں بین المذاہب افطار کی تقریب منعقد ہوئی جس سے امریکی محکمہ خارجہ کی اسسٹنٹ سیکریٹری، پرنسپل ایڈوائرز برائے عالمی مذہبی اور پاکستان کے سفیر نے خطاب کیا۔بین المذاہب افطار کی تقریب سے خطاب میں امریکی محکمہ خارجہ کی اسسٹنٹ سیکریٹری نکول چولک نے کہا کہ غزہ بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت پر شکر گزار ہیں، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مذہبی آزادی کو امریکی انتظامیہ کی اہم ترجیح قرار دیا۔نکول چولک نے کہا کہ امریکا اور پاکستان میں مشترکہ مفادات پر مبنی شراکت داری دہائیوں پر محیط ہے، امن کا حصول ہمارے مشترکہ مفادات کا اہم جزو ہے، صدر ٹرمپ کے بلائے گئے امن بورڈ میں پاکستان کی شرکت پر شکر گزار ہیں، پاکستان کی بورڈ میں شرکت امن کے فروغ کی کوششوں کا مظہر ہے، سکیورٹی کے شعبے میں پاکستان اور امریکا کا تعاون مضبوط بنیادوں پر استوار ہے۔پاکستانی سفارتخانے واشنگٹن ڈی سی میں بین المذاہب افطار کی تقریب#ARYNews pic.twitter.com/XhRyP7SEN1— ARY NEWS (@ARYNEWSOFFICIAL) February 27, 2026انہوں نے پاکستان میں حالیہ دہشتگردی واقعات میں شہید افراد کے خاندانوں سے تعزیت کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور امریکا عوامی روابط کو مضبوط بنانے کے حوالے سے کوشاں ہیں۔امریکی وزارت خارجہ کے پرنسپل ایڈوائرز برائے عالمی مذہبی آزادی مارک واکر نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ دکھ سکھ میں ایک ساتھ کھڑے ہونا انسانیت کے رشتوں کو مزید مستحکم کرتا ہے، اسلام آباد میں مسجد پر حملے کے بعد تمام مذاہب کی اظہار یکجہتی حوصلہ افزا امر ہے، کسی بھی مذہب کے نام پر ہونے والا تشدد مذہب سے غداری ہے۔پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ بین المذاہب ہم آہنگی عالمی اور علاقائی امن کی بنیاد بن سکتی ہے، پاکستان کا جغرافیہ اور تاریخ تنوع کی سرزمین ہیں، پاکستان انسانی و مذہبی حقوق کی پاسداری میں ہمیشہ پیش پیش رہا ہے، بین المذاہب ہم آہنگی کیلیے ریاست پاکستان پُرعزم ہے۔