واشنگٹن (1 مارچ 2026): امریکی فوج نے اعتراف کیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری آپریشن کے دوران اس کے تین اہلکار مارے گئے۔الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں 3 فوجی اہلکاروں کی ہلاکت اور 5 شدید زخمی ہونے کی تصدیق کی۔ایران اسرائیل امریکا جنگ سے متعلق تمام خبریںسینٹ کام کے مطابق کئی دیگر اہلکار معمولی زخموں اور دھماکے کے اثر سے متاثر ہوئے ہیں جنہیں طبی امداد کے بعد دوبارہ ڈیوٹی پر واپس لایا جا رہا ہے، بڑے پیمانے پر جنگی کارروائیاں اب بھی جاری ہیں اور ہمارا جوابی عمل ابھی ختم نہیں ہوا۔بیان میں مزید بتایا گیا کہ صورتحال مسلسل بدل رہی ہے لہٰذا اہل خانہ کے احترام میں ہم اضافی معلومات اور ہلاک ہونے والے جنگجوؤں کی شناخت ظاہر نہیں کر رہے، یہ تفصیلات لواحقین کو مطلع کیے جانے کے 24 گھنٹے بعد جاری کی جائیں گی۔CENTCOM UpdateTAMPA, Fla. – As of 9:30 am ET, March 1, three U.S. service members have been killed in action and five are seriously wounded as part of Operation Epic Fury.Several others sustained minor shrapnel injuries and concussions — and are in the process of being…— U.S. Central Command (@CENTCOM) March 1, 2026قبل ازیں، ایران کی پاسداران انقلاب فورس نے سرکاری میڈیا کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن کو چار بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے۔واضح رہے کہ یو ایس ایس لنکن ان دو طیارہ بردار بحری جہازوں میں سے ایک ہے جنہیں حالیہ ہفتوں میں خطے میں تعینات کیا گیا تھا اور یہ واحد جہاز ہے جو ایرانی ساحلوں کے نسبتاً قریب موجود ہے۔