جنیوا مذاکرات: ایران نے جوہری افزودگی 60 فی صد سے کم کر کے 3.6 فی صد کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی

Wait 5 sec.

تہران (26 فروری 2026): ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور جنیوا میں شروع ہو گیا ہے۔ایران نے معاہدے کا مجوزہ مسودہ امریکا کو پیش کر دیا، سرکاری خبر ایجنسی ارنا کا کہنا ہے کہ اب امریکا کے پاس مذاکرات سے فرار کا کوئی بہانہ نہیں رہے گا۔ایک عرب سفارت کار نے غیر ملکی میڈیا کو بتایا کہ ایران نے جوہری افزودگی 60 فی صد سے کم کر کے 3.6 فی صد کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے، ایران نے مستقبل میں جوہری افزودگی 7 سال تک معطل رکھنے کی بھی پیشکش کی ہے۔ایران کی دفاعی کونسل کے سکریٹری علی شمخانی کا کہنا ہے کہ اگر جنیوا مذاکرات کے پیچھے اصل مسئلہ ایران کا جوہری ہتھیار نہ بنانا ہے تو یہ ’’قیادت کے فتوے اور ایران کے دفاعی نظریے‘‘ کے مطابق ہے۔اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ ایران نے ملک میں موجود انتہائی افزودہ یورینیئم بیرونِ ملک منتقل کرنے سے انکار کیا ہے لیکن اسے ایران میں ہی تلف کرنے کی پیش کش کی ہے۔آیت اللّٰہ خامنہ ای نے ایٹمی ہتھیار بنانے کو ممنوع قرار دیا ہے، ایرانی صدرامریکا ایرانی جوہری پروگرام 10 سال تک معطل کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی کا کہنا ہے گزشتہ رات ہی عمان کو اپنے مؤقف سے آگاہ کر دیا تھا۔ مذاکرات سے پہلے عمانی وزیر خارجہ نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر رافیل گروسی سے بھی ملاقات کی، جس میں ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق بات ہوئی۔