سعودی عرب (27 فروری 2026): سخاوت کی اعلیٰ مثال حاتم طائی کے شہر کے باسی مہمان نوازی کی صدیوں پرانی روایت کو جدت کے ساتھ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔حاتم طائی کا شمار دنیا کے سخی انسان کی فہرست میں ہوتا ہے۔ حاتم طائی تقریباً 1500 سال قبل گزرا ہے اور سعودی عرب کے شمالی شہر حائل کا حکمراں تھا۔اس کی سخاوت اور مہمان نوازی کے کئی قصے اور روایات مشہور ہیں۔ تاہم حاتم طائی کے شہر حائل کے شہری مہمان نوازی کی اس صدیوں قدیم روایت کو جدت کے ساتھ جاری رکھے ہوئے ہیں۔حائل میں مہمان خانے (مدافا) کا بڑا دروازہ سارا سال ہر وقت ہر عمر کے تمام لوگوں کے لیے کھلا رہتا ہے۔ تاہم رمضان المبارک میں اس کے دروازے نماز مغرب سے کچھ وقت پہلے کھولے جاتے ہیں اور آنے والوں کو نماز عشا کے بعد خوش آمدید کہا جاتا ہے۔مدافا کا مرکزی دروازہ عام دنوں میں بڑا اور کھلا رہتا ہے مگر رمضان میں یہ مغرب کی نماز سے قبل کھلتا ہے اور فجر کی نماز تک کھلا رہتا ہے۔موسم خوشگوار ہو تو مہمانوں کو صحن میں لڑکی کی کرسیوں اور روایتی کپڑوں سے مزین نشستوں پر دائرے کی صورت بٹھایا جاتا ہے اور ان کے درمیان آگ جلتی رہتی ہے جو دلکش منظر پیش کرتی ہے۔تاہم اگر موسم سخت گرم یا سخت سرد ہو تو مہمانوں کو شاندار سجے ہوئے بڑے خیمے میں فرش کے کشن پر بٹھایا جاتا ہے۔ بالخصوص اجنبی مہمان کو مارکا یا بازو کی آرام گاہ کے پاس بٹھایا جاتا ہے۔یہاں مہمانوں کی تواضع کھجور اور کافی سے کی جاتی ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ یہاں کافی پینے سے مہمان کا انکار کرنا بدتمیزی سمجھا جاتا ہے اور مہمانوں کو کم سے کم دو کپ کافی پینا پڑی ہے۔ آخر میں مہمان کپ ہلا کر اشارہ کرتا ہے کہ کافی پی لی ہے۔مہمان خانے کی دیواریں عموماً میزبان کے بزرگوں کی تصویروں سے سجی ہوتی ہیں اور ہال میں حائل کی مقامی ثقافت کے مطابق آرائشی نمونے ہوتے ہیں۔مدافا (مہمان خانے) کے سپر وائزر محمد النعام کے مطابق رمضان کے دوران مہمانوں کے استقبال کے لیے خصوصی تیاریاں کی جاتی ہیں۔مدافا میں رمضان المبارک میں قرآن اور ذکر کے لیے نرم روشی سے مزین مخصوص کونا بنایا گیا ہے۔اس کے علاوہ رمضان کے دوران یہاں گروپ افطار ڈنر، مہمان مقررین کے لیکچرز، نماز اور مختلف خیراتی سرگرمیاں منعقد کی جاتی ہیں۔