لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے آج پنجاب کے برنالہ میں ’کسان مزدور مہاریلی‘ سے خطاب کیا۔ لوگوں کی جمع بھیڑ سے مخاطب ہوتے ہوئے انھوں نے کئی محاذ پر وزیر اعظم نریندر مودی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ خاص طور سے ہند-امریکہ تجارتی معاہدہ کے نقصانات پنجاب کے کسانوں اور عوام کے سامنے انتہائی واضح انداز میں رکھے۔ انھوں نے کہا کہ ’’ملک میں ’طوفان‘ آنے والا ہے، کیونکہ امریکہ کا اخروٹ، بادام، سیب، دال، کپاس، سویابین ہندوستان آئے گا۔ کیونکہ نریندر مودی نے ملک کا سارا کا سارا ڈاٹا ٹرمپ کو سونپ دیا۔ کیونکہ نریندر مودی نے ٹرمپ کو گارنٹی دی ہے کہ ہندوستان ہر سال 9 لاکھ کروڑ روپے کی امریکی مصنوعات خریدے گا۔‘‘देश में 'तूफान' आने वाला है क्योंकि ⦁ अमेरिका का अखरोट, बादाम, सेब, दाल, कपास, सोयाबिन भारत आएगा ⦁ नरेंद्र मोदी ने देश का सारा का सारा डेटा ट्रंप को सौंप दिया⦁ नरेंद्र मोदी ने ट्रंप को गारंटी दी है कि हिंदुस्तान हर साल 9 लाख करोड़ रुपए के अमेरिकन प्रोडक्ट खरीदेगा… pic.twitter.com/tQKwqVuJ9b— Congress (@INCIndia) February 28, 2026کسانوں و مزدوروں کی اہمیت ظاہر کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ ’’پنجاب جانتا ہے کہ کسان اور مزدور ملک کی بنیاد ہوتا ہے۔ کسان اور مزدور کے بغیر ملک مضبوط نہیں ہو سکتا۔ ہندوستان کی فوڈ سیکورٹی میں کسانوں اور مزدوروں کی سب سے بڑی محنت رہی ہے۔ سبز انقلاب بھی پنجاب کے کسانوں اور مزدوروں کی محنت تھی۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’نریندر مودی نے ہندوستان کے ایگریکلچر سیکٹر کا دروازہ امریکہ کے لیے کھول دیا ہے۔ اس فیصلہ کے بعد امریکہ کا سامان ہندوستان آئے گا اور ہمارے کسان تباہ ہو جائیں گے۔‘‘पंजाब जानता है कि देश की नींव किसान और मजदूर होता है। किसान और मजदूर के बिना देश मजबूत नहीं हो सकता है।हिंदुस्तान की फूड सिक्योरिटी में किसानों और मजदूरों की सबसे बड़ी मेहनत रही है। 'हरित क्रांति' भी पंजाब के किसानों और मजदूरों की मेहनत थी।: 'कांग्रेस मजदूर महारैली' में… pic.twitter.com/H4YfpgGgtJ— Congress (@INCIndia) February 28, 2026ہند-امریکہ تجارتی معاہدہ کو کانگریس رکن پارلیمنٹ نے پوری طرح سے کسانوں کو نقصان پہنچانے والا قرار دیا۔ انھوں نے بتایا کہ اس کے نقصانات کو پی ایم مودی جانتے تھے، لیکن مجبوری میں معاہدہ کرنے کو راضی ہوئے۔ انھوں نے کہا کہ ’’نریندر مودی یہ کام نہیں کرنا چاہتے تھے۔ 4 ماہ تک معاہدہ رکا ہوا تھا، کیونکہ ہندوستان کا کوئی بھی وزیر اعظم کسی دوسرے ملک کے لیے ایگریکلچر سیکٹر کو نہیں کھول سکتا۔ لیکن سوال ہے، نریندر مودی نے جو کام 4 ماہ تک نہیں کیا، اسے انھوں نے 15 منٹ میں کیوں کر دیا؟‘‘नरेंद्र मोदी ने हिंदुस्तान के एग्रीकल्चर सेक्टर का दरवाजा अमेरिका के लिए खोल दिया है। इस फैसले के बाद अमेरिका का सामान, भारत आएगा और हमारे किसान तबाह हो जाएंगे।नरेंद्र मोदी यह काम नहीं करना चाहते थे। चार महीने तक डील रुकी हुई थी, क्योंकि हिंदुस्तान का कोई भी प्रधानमंत्री किसी… pic.twitter.com/ZXUYcCJPaq— Congress (@INCIndia) February 28, 2026