واشنگٹن (28 فروری 2026): ایران پر اسرائیل اور امریکا کے مشترکہ فوجی حملوں سے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو حکام نے بریفنگ دی جس کے بارے میں اعلیٰ عہدیدار نے بتایا ہے۔خبر رساں ایجنسی روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکی عہدیدار نے بتایا کہ ایران پر امریکی حملے سے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دی جانے والی بریفنگ میں نہ صرف بڑے پیمانے پر امریکی جانی نقصان کے خطرے کے بارے میں آگاہ کیا گیا بلکہ اس امکان کو بھی بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا کہ یہ مشرق وسطیٰ میں امریکی مفادات کے حق میں ایک نسل در نسل تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔یہ بھی پڑھیں: جہاں تک مجھے علم ہے خامنہ ای زندہ ہیں، ایرانی وزیر خارجہروئٹرز کے مطابق پینٹاگون کی جانب سے ’آپریشن ایپک فیوری‘ کہلائے جانے والے اس آپریشن نے مشرق وسطیٰ کو ایک نئے اور ناقابل پیشگوئی تنازع میں دھکیل دیا ہے۔ امریکی اور اسرائیلی افواج نے ایران بھر میں مختلف مقامات کو نشانہ بنایا جس کے جواب میں ایران نے اسرائیل اور قریبی خلیجی عرب ممالک پر جوابی حملے کیے۔امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ بریفنگ دینے والوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے اس آپریشن کو ایک ایسی صورتحال کے طور پر بیان کیا جس میں خطرہ جتنا زیادہ ہے، فائدہ بھی اتنا ہی بڑا ہے۔ٹرمپ کی قومی سلامتی کی ٹیم کی ان بریفنگ سے یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ صدر نے 2003 میں عراق پر حملے کے بعد سے اب تک کے سب سے خطرناک امریکی فوجی آپریشن کو انجام دینے کا فیصلہ کیسے کیا۔ایران اسرائیل امریکا جنگ سے متعلق تمام خبریںایران پر حملوں سے قبل ٹرمپ نے متعدد اعلیٰ حکام سے بریفنگ حاصل کیں، جن میں سی آئی اے ڈائریکٹر، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف، وزیر خارجہ اور وزیر دفاع شامل ہیں۔ایک اور امریکی عہدیدار نے بتایا کہ حملوں سے قبل وائٹ ہاؤس کو ایران کے خلاف آپریشنز سے وابستہ متعدد خطرات سے آگاہ کیا گیا تھا جن میں خطے میں موجود متعدد امریکی اڈوں پر ایرانی میزائلوں کے جوابی حملے اور عراق و شام میں ایرانی نواز گروہوں کی جانب سے امریکی افواج پر حملے شامل تھے۔