اراولی پہاڑی سلسلہ کو تحفظ فراہم کرنے کے مقصد سے سپریم کورٹ میں اہم سماعت ہوئی، جس میں عدالت عظمیٰ نے کہا کہ جب تک اراولی کی صحیح تعریف طے نہیں ہو جاتی اور متعلقہ علاقہ کے ماہرین کی کمیٹی اپنی رپورٹ نہیں دیتی تب تک کانکنی کا کوئی نیا پٹہ جاری نہیں کیا جائے گا۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ اراولی کی تعریف سے متعلق از سر نو جانچ کے لیے متعلقہ علاقہ کے ماہرین کی کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔سپریم کورٹ ماہرین کی کمیٹی سے متعلق کہا کہ وزارت ماحولیات اس کے لیے ناموں کا مشورہ دے گی۔ اراولی معاملہ سے جڑے سینئر وکلا سے بھی ماہرین کے نام طلب کیے جائیں گے۔ کمیٹی کی رپورٹ آنے تک اراولی علاقہ میں کانکنی کے کسی بھی نئے پٹہ پر روک جاری رہے گی۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ مسئلہ یہ ہے کہ ابھی تک کسی کو نہیں معلوم کہ اراولی کیا ہے؟ چیف جسٹس آف انڈیا نے یہ تبصرہ تب کیا جب سینئر وکیل مکل روہتگی نے اپنے ایک موکل کا موقف رکھا، جس نے 10 سال کی طویل قانونی لڑائی کے بعد کانکنی پٹہ حاصل کیا تھا۔ اس پر عدالت نے کہا کہ فی الحال نیا پٹہ جاری نہیں ہوگا۔ علاوہ ازیں جن کاموں کے لیے لائسنس جاری کیے گئے ہیں، انھیں بھی فی الحال روکنا ہوگا۔دراصل پورا تنازعہ اراولی کی نئی تعریف (100 میٹر کا اصول) کے بعد شروع ہوا ہے۔ اب صرف انہی ڈھانچوں کو اراولی پہاڑی مانا جائے گا جن کی اونچائی اپنے آس پاس کی زمین سے 100 میٹر یا اس سے زیادہ ہے۔ جو پہاڑیاں 100 میٹر سے کم اونچی ہیں، وہ اب اراولی کی رینج میں نہیں آئیں گی، جس سے وہاں کانکنی، رئیل اسٹیٹ اور دیگر تجارتی سرگرمیوں کا راستہ صاف ہو سکتا ہے۔ وزیر ماحولیات بھوپیندر یادو نے اس تعلق سے کہا تھا کہ اراولی کے مجموعی 1.44 لاکھ اسکوائر کلومیٹر خطہ میں محض 217 کلومیٹر میں، یعنی صرف 0.19 فیصد حصہ میں ہی کانکنی کی اجازت ہے، کیونکہ اراولی کی پہاڑیوں کی پیمائش میں 100 میٹر کا مطلب صرف زمین سے چوٹی تک کی اونچائی سے نہیں ہے۔