ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران اپنے برادر ممالک کو نشانہ نہیں بنا رہا اور جوابی کارروائیوں کا رخ صرف امریکی اہداف کی جانب ہے۔مشرق وسطیٰ میں امریکی اڈوں پر کیے گئے حملوں سے متعلق عباس عراقچی نے کہا کہ ہمیں خلیج فارس کے دوسری جانب موجود ممالک سے کوئی مسئلہ نہیں ہمارے تمام پڑوسیوں کے ساتھ دوستانہ اور اچھے برادرانہ تعلقات ہیں ہم برادر ممالک سے ان تعلقات کو برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔عباس عراقچی نے واضح کیا کہ ایران جو کچھ کر رہا ہے وہ اپنے دفاع اور امریکی جارحیت کے خلاف جوابی کارروائی ہے ہم اپنے بھائیوں یا پڑوسیوں پر حملہ نہیں کر رہے بلکہ امریکی اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں۔وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران کے پاس اپنے دفاع میں کوئی پابندی یا حد نہیں ہے ایک آئینی عمل شروع کردیا ہے اور عبوری کونسل آج قائم کی گئی ہے عبوری کونسل معاملات کو منظم کرنے کےلیے کام کرے گی۔ان کا کہنا تھا کہ سپریم لیڈر کا قتل سنگین فعل اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے ایران اب اپنے دفاع کےلیے کسی بھی حد تک جانے کے لیے آزاد ہے ایران نے ہمیشہ سفارتکاری کے دروازے کھلے رکھے ہیں امریکا نے مذاکرات کے دوران ہی حملہ کر کے اپنی بدنیتی ثابت کر دی، امریکا نے مذاکرات کے عمل کے دوران ہم پر دوسری بار حملہ کیا، مذاکرات کے دوران حملہ بین الاقوامی آداب اور سفارتی کوششوں کی کھلی توہین ہے ایران نے ہمیشہ بات چیت کو ترجیح دی لیکن امریکی رویہ اس کے برعکس انتہائی جارحانہ رہا ہے۔