کانگریس کی جنرل سیکریٹری اور وائناڈ کی رکن پارلیمان پرینکا گاندھی نے کہا ہے کہ اظہارِ رائے کی آزادی ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور اس کا مکمل احترام ہونا چاہیے، تاہم ایسے ماحول میں جہاں بیان بازی، غصہ اور نفرت میں اضافہ محسوس کیا جا رہا ہو، تخلیقی کاموں کو سماجی ہم آہنگی اور بھائی چارے کو فروغ دینا چاہیے۔وہ کیرالہ ہائی کورٹ کی جانب سے فلم ’دی کیرالہ اسٹوری 2 – گوز بیونڈ‘ کی ریلیز پر عارضی پابندی سے متعلق سوالات کا جواب دے رہی تھیں۔خیال رہے کہ عدالت کی سنگل جج بنچ نے ابتدائی مشاہدے میں کہا کہ سنٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفکیشن کی جانب سے قانونی تقاضوں پر مناسب طور پر عمل درآمد نہ ہونے کا بادی النظر میں تاثر ملتا ہے، جس کے بعد فلم کی نمائش پر 15 دن کے لیے روک لگا دی گئی۔ بعد ازاں فلم کے پروڈیوسر نے اس فیصلے کو ڈویژن بنچ میں چیلنج کر دیا۔اپنے تین روزہ دورۂ کیرالہ کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پرینکا گاندھی نے کہا، ’’سب سے پہلے میں یہ سمجھتی ہوں کہ لوگوں کو اظہارِ رائے کی آزادی ہونی چاہیے۔ اسی کے ساتھ ایسے ماحول میں جو تیزی سے سخت بیانات اور نفرت سے بھر رہا ہو، بہتر ہے کہ تخلیقی انداز میں ایسی چیزیں بنائی جائیں جو خوشی، امن، محبت اور عوام کی فلاح کو آگے بڑھائیں۔‘‘انہوں نے کہا کہ وہ کیرالہ کے عوام کی معترف ہیں اور وائناڈ میں مختلف برادریوں کے درمیان ہم آہنگی کو قریب سے دیکھ چکی ہیں۔ ان کے مطابق کیرالہ کے لوگ مذہب یا ذات پات کی تفریق کے بغیر ایک دوسرے کے تہوار مناتے ہیں اور مشکل وقت میں مل کر کھڑے ہوتے ہیں۔پرینکا گاندھی نے چورالملا اور منڈکائی کے لینڈ سلائیڈ سانحے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس المیے نے کیرالہ کی اصل روح کو ظاہر کیا، جہاں مختلف پس منظر سے تعلق رکھنے والے افراد نے متحد ہو کر متاثرین کی مدد کی۔ انہوں نے کہا کہ یہی جذبہ ہندوستان کی اصل پہچان ہے۔Firstly, I believe that people should be allowed to express themselves. At the same time, in an environment increasingly filled with rhetoric, anger, and hatred, I feel it is better to create things creatively - things that are joyful and that promote peace, love, and the welfare… pic.twitter.com/nSekHbF8fU— Congress (@INCIndia) February 27, 2026انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایسے مثبت واقعات کو زیادہ نمایاں کیوں نہ کیا جائے۔ ان کے مطابق فن اور کہانی سنانے کا عمل معاشرے کو جوڑنے کا ذریعہ بن سکتا ہے، اس لیے ایسی تخلیقات کی ضرورت ہے جو تعلقات کو مضبوط کریں اور پورے ملک کو اتحاد اور باہمی احترام کا پیغام دیں۔