ماگھ میلہ تنازعہ: سابق سی بی آئی چیف ناگیشور راؤ کی سوامی اویمکتیشورانند سے ملاقات، سرکاری دستاویزات طلب

Wait 5 sec.

مرکزی تفتیشی ایجنسی (سی بی آئی) کے سابق ڈائریکٹرایم ناگیشور راؤ نے پریاگ راج ماگھ میلے میں تنازعہ کا مرکز رہے سری ودیا مٹھ کا دورہ کیا جہاں انہوں نے شنکراچاریہ سوامی اویمکتیشورانند سے تقریباً 25 منٹ تک بند کمرے میں ملاقات کی۔ شروع میں اسے گرو اور شاگرد کی روایت سے متعلق ایک معمول کی ملاقات بتایا گیا مگر بعد میں اس ملاقات کی اصل وجہ سامنے آئی تو معاملہ ایک بار پھر سرخیوں میں آ گیا۔شنکراچاریہ سوامی اویمکتیشورانند نے رام للا کی پران پرتشٹھا پر اعتراض کے بعد ’کاشی کوریڈور‘ پر بھی کھڑے کیے سوالخبروں کے مطابق ریٹائرمنٹ کے بعد ایم ناگیشور راؤ اپنے کچھ ریٹائرڈ سینئر افسران اور صحافی ساتھیوں کے ساتھ سول سوسائٹی کی ایک تنظیم سے وابستہ ہیں۔ یہ تنظیم رواں سال کے اوائل میں پریاگ راج کے ماگھ میلے میں مونی اماوسیہ کے دن ہوئے تنازعہ اور اس سے متعلق پورے معاملے کی آزادانہ تحقیقات کر رہی ہے۔ اسی تحقیقات کے سلسلے میں ایم ناگیشور راؤ نے سوامی ایویمکتیشورانند سے ملاقات کر کے تفصیلی بات چیت کی۔بتایا جا رہا ہے کہ یہ پوری تحقیقات کئی پہلوؤں پر مرکوز ہے جیسے 18 جنوری 2026 کو مونی اماواسیہ کے دن حالات کیا تھے، شنکراچاریہ کی روایتی پالکی یاترا کو کیوں روکا گیا، پولیس اور انتظامیہ کا کیا کردار رہا اور کس بات پر کہا سنی نے بڑے تنازعہ کی شکل اختیار کی وغیرہ۔ ٹیم یہ بھی سمجھنے کی کوشش کر رہی ہے کہ روایت اور انتظامی فیصلوں کے درمیان ٹکراؤ کے حالات کیوں پیدا ہوئے۔’نام کے آگے شنکراچاریہ کیسے لگایا؟‘ پریاگ راج میلہ انتظامیہ کے نوٹس پر سوامی اویمکتیشورانند کا ردعمل آیا سامنےاطلاعات کے مطابق ایم ناگیشور راؤ کی ٹیم نے اس پورے معاملے میں پریاگ راج انتظامیہ سے پالکی یاترا کی اجازت، سوامی اویمکتیشورانند کو جاری کئے گئے نوٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے بارے میں معلومات مانگی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ٹیم اس دن موقع پر موجود رہے صحافیوں،پولیس افسران اور عینی شاہدین سے بھی بات کرنے کی تیاری کررہی ہے۔ذرائع یہ بھی بتاتے ہیں کہ سوامی اویمکتیشورانند کے خلاف درج ایف آئی آر اور جنسی استحصال کے الزامات کے حوالے سے غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جا رہی ہیں تاکہ معاملے کی حقیقت سامنے آسکے۔ ناگیشور راؤ جیسے تجربہ کار سابق بیوروکریٹ اور سینئر صحافیوں کے ذریعہ تیار کی جارہی اس تحقیقاتی رپورٹ کو عام کیا جائے گا جس سے عام لوگ بھی ماگھ میلہ تنازعہ اور اس سے جڑے تمام پہلوؤں کو سمجھ سکیں گے۔