’مردم شماری 2027 کے شیڈول پر غیر ضروری اثرات سے گریز کیا جائے‘، سابق اعلیٰ افسران کا مطالبہ

Wait 5 sec.

کانسٹی ٹیوشنل کنڈکٹ گروپ (سی سی جی) کے بینر تلے 90 ریٹائرڈ سول افسران نے رجسٹرار جنرل اور مردم شماری کمشنر مرتیونجے کمار نارائن کو خط لکھ کر آئندہ مردم شماری 2027 کے وقت، طریقۂ کار اور شفافیت کے حوالے سے سنجیدہ خدشات کا اظہار کیا ہے۔ 23 فروری 2026 کو ارسال کیے گئے اس خط میں سابق افسران نے کہا کہ وہ آئینی اقدار اور عوامی خدمت کے اصولوں کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہیں اور اسی جذبے کے تحت یہ گزارشات پیش کی جا رہی ہیں۔خط میں تسلیم کیا گیا کہ کووڈ۔19 عالمی وبا کے باعث 2021 کی مردم شماری مقررہ وقت پر منعقد نہ ہو سکی، تاہم سوال اٹھایا گیا کہ جب کئی دیگر ممالک نے 2023 تک اپنے اعداد و شمار مکمل کر لیے تو ہندوستان میں یہ عمل اس مدت میں کیوں مکمل نہ ہو سکا۔ افسران کے مطابق چھ سالہ تاخیر کی وجوہات عوام کے سامنے نہ آنے سے غیر ضروری شبہات نے جنم لیا ہے، خاص طور پر اس تناظر میں کہ 2027-28 میں حلقہ بندیوں کا عمل اور 2029 کے لوک سبھا انتخابات متوقع ہیں۔ خط میں امید ظاہر کی گئی کہ مردم شماری کے شیڈول پر کسی غیر متعلقہ مصلحت کا اثر نہیں پڑا ہوگا۔سی سی جی نے اس بات پر زور دیا کہ مردم شماری اقوام متحدہ کے آبادی و رہائش مردم شماری کے اصول و سفارشات، نظر ثانی 4 مارچ 2025، کے مطابق انجام دی جائے، جن پر ہندوستان دستخط کر چکا ہے۔ خط میں خبردار کیا گیا کہ اگر فیلڈ سطح پر موبائل پر مبنی اندراج اور پہلے سے درج شدہ اختیارات پر ضرورت سے زیادہ انحصار کیا گیا تو غلطیوں کی درستی محدود ہو سکتی ہے اور اعداد و شمار کے معیار پر اثر پڑ سکتا ہے۔ 2001 اور 2011 کی مردم شماریوں کے تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ محض تکنیکی تبدیلیاں نتائج کے بروقت اجراء کی ضمانت نہیں ہوتیں، اس لیے مضبوط معیاری جانچ اور آزادانہ نگرانی ناگزیر ہے۔گروپ نے سوالنامہ کو مختصر اور بامقصد رکھنے کی بھی سفارش کی۔ ان کے مطابق بعض سوالات ایسے ہیں جن کے لیے متبادل ذرائع موجود ہیں، جیسے پیدا ہونے والے اور زندہ بچوں سے متعلق معلومات جو قومی خاندانی صحت سروے کے ذریعے زیادہ مؤثر طور پر حاصل کی جا سکتی ہیں۔ ذاتوں کی درجہ بندی کے بارے میں کہا گیا کہ دیگر پسماندہ طبقات کو سابقہ مردم شماریوں میں باقاعدہ طور پر الگ زمرے کے طور پر درج نہیں کیا گیا، اس لیے آئندہ طریقۂ کار کو عوام کے سامنے واضح کیا جائے۔ تجویز دی گئی کہ ذات کا خانہ کھلا رکھا جائے جیسا کہ 2011 کے سماجی و معاشی و ذات مردم شماری میں کیا گیا تھا، تاکہ پہلے سے تیار فہرستوں تک محدود نہ رہا جائے۔ ساتھ ہی بشریاتی سروے ہند اور دیگر تحقیقی اداروں کو شامل کرنے کی بھی سفارش کی گئی تاکہ زبانوں کی درجہ بندی کی طرز پر ذاتوں کے اعداد و شمار کی توثیق اور ترتیب ممکن ہو سکے۔قبائلی برادریوں کے سلسلے میں گروپ نے کہا کہ فہرست شدہ قبائل سے آگے بڑھ کر دیگر قبائلی طبقات کو بھی شامل کیا جائے تاکہ غیر درج قبائل کے دیرینہ مسائل کو سمجھنے میں مدد مل سکے۔ مذہب جیسے حساس موضوع پر محتاط انداز اپنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا، خاص طور پر اس پس منظر میں جب شہریت اور ووٹر فہرستوں سے متعلق عوامی مباحث جاری ہیں۔یہ واضح کرتے ہوئے کہ اس کے متعدد ارکان اپنی سرکاری خدمات کے دوران ضلع، ریاست اور قومی سطح پر مردم شماری کے عمل میں شامل رہ چکے ہیں، گروپ نے اعتماد ظاہر کیا کہ رجسٹرار جنرل اس مشق کو ’’درستی، شفافیت اور رسائی‘‘ کے تین بنیادی مقاصد کے مطابق یقینی بنائیں گے۔ خط کا اختتام ’ستیہ میو جیتے‘ کے الفاظ پر ہوا اور اس کی تائید کئی نمایاں سابق عہدیداروں نے کی، جن میں سابق مرکزی داخلہ سکریٹری جی کے پلّئی، سابق خارجہ سکریٹری کے رگھوناتھ، سابق الیکشن کمشنر اشوک لاواسا اور سابق لیفٹیننٹ گورنر دہلی نجیب جنگ سمیت دیگر شامل ہیں۔