امریکا و اسرائیل حملے میں خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایرانی صدر کا پہلا بیان سامنے آگیا

Wait 5 sec.

تہران(یکم مارچ 2026): ایران پر امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ہونے والے حملے کے بعد ایران کے صدر مسعود پزشکیان کا پہلا بیان سامنے آیا ہے۔برطانوی میڈیا رپورٹ کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کو دنیا بھر کے مسلمانوں، بالخصوص اہل تشیع کے خلاف "اعلانِ جنگ” قرار دے دیا ہے۔ایرانی حکومت کے آفیشل ٹیلی گرام چینل پر جاری کردہ ایک بیان میں صدر پزشکیان نے کہا کہ ایران اس تاریخی جرم کے مرتکب افراد اور اس کے پیچھے موجود ماسٹر مائنڈز سے خون کا بدلہ اور انتقام لینا اپنا جائز فرض اور حق سمجھتا ہے۔ ایران اس عظیم ذمہ داری اور فرض کو پورا کرنے کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں بروئے کار لائے گا۔واضح رہے کہ حملے کے بعد صدر مسعود پزشکیان کی سلامتی کے حوالے سے مختلف سوالات گردش کر رہے تھے، تاہم ان کے دفتر کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ ایرانی صدر "مکمل طور پر خیریت اور محفوظ مقام” پر ہیں۔دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر تعزیتی پیغام میں کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای ثابت قدم، تدبیر میں عمیق اور راہِ حق میں استقامت کے پیکر تھے۔عباس عراقچی نے کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای عزت، حکمت اور استقامت کا ایک دائمی ورثہ چھوڑ گئے،ایسی عظیم شخصیت کی شہادت بلاشبہ ایک بڑا نقصان اور دل خراش غم ہے،جو پرچم آیت اللہ خامنہ ای نے بلند کیا، اسے مزید بلندیوں تک پہنچائیں گے۔